ڈیرہ اسماعیل خان: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے کچھ تحفظات ضرور ہیں، تاہم یہ مسائل بات چیت کے ذریعے حل کر لیے جائیں گے۔
پولیس ٹریننگ اسکول کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں پولیس کی کارکردگی قابلِ ستائش ہے، پولیس فورس نے قیامِ امن کے لیے گراں قدر قربانیاں دی ہیں، ہم اپنے شہدا کے ورثا کو سلام پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس ٹریننگ اسکول پر ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملے میں ملوث عناصر کا تعلق افغانستان سے تھا۔ گورنر نے الزام عائد کیا کہ بھارت اور اسرائیل پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں اور افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ ضم شدہ اضلاع میں امن کی بحالی سے ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے، ان علاقوں میں تیل اور گیس کے وافر ذخائر موجود ہیں اور او جی ڈی سی ایل سمیت دیگر کمپنیاں یہاں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ نئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے ان کی غیر رسمی ملاقات ہو چکی ہے، جلد صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر ترقیاتی اور امن منصوبوں پر مشاورت کی جائے گی۔
گورنر کے مطابق، مولانا فضل الرحمان ہمیشہ سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اور مختلف جماعتوں کے ساتھ مل کر جمہوری عمل کو آگے بڑھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات فطری ہیں، لیکن بات چیت ہی ان کے حل کا واحد راستہ ہے، امید ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے تمام تحفظات جلد دور ہو جائیں گے۔

