اسلام آباد:ایف بی آر کے مطابق جولائی سے ستمبر کے دوران تنخواہ دار طبقے سے 130 ارب روپے کی وصولی ہوئی جبکہ جائیدادوں کے انتقال پر 60 ارب، برآمد کنندگان سے 45 ارب، تھوک فروشوں سے 14.6 ارب اور پرچون فروشوں سے 11.5 ارب روپے حاصل کیے گئے۔ اس طرح تنخواہ دار طبقہ واحد شعبہ رہا جس کی ٹیکس ادائیگی دیگر تمام کاروباری طبقوں سے نمایاں طور پر زیادہ رہی۔
اعداد و شمار کے مطابق تنخواہ دار طبقے نے برآمد کنندگان کے مقابلے میں تین گنا اور ریٹیل و ہول سیل سیکٹر کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ٹیکس ادا کیا۔ گزشتہ مالی سال میں اس طبقے نے مجموعی طور پر 545 ارب روپے ٹیکس دیا تھا جبکہ رواں سال کا ہدف 600 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جائیداد کی خرید و فروخت سے مجموعی طور پر 60 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا۔ ایف بی آر نے جائیداد کی خریداری پر سیکشن 236K کے تحت 24 ارب روپے جمع کیے جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 18 ارب روپے تھے، جب کہ فروخت پر سیکشن 236C کے تحت 42 ارب روپے حاصل کیے گئے جو پچھلے سال 23 ارب روپے تھے۔ اس سال بجٹ میں جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح بڑھا کر 4.5 فیصد کردی گئی ہے اگر مالیت 50 ملین روپے سے کم ہو۔
ایف بی آر کے مطابق اگر خریدار ایکٹو ٹیکس دہندگان کی فہرست (ATL) میں شامل نہ ہو تو ٹیکس کی شرح 10.5 فیصد ہوگی، جبکہ ریٹرن تاخیر سے فائل کرنے کی صورت میں شرح 4.5 فیصد مقرر ہے۔ ان تبدیلیوں کے نتیجے میں جائیداد کے لین دین سے حاصل ہونے والی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب برآمد کنندگان سے انکم ٹیکس سیکشن 154 اور 147(6C) کے تحت 45 ارب روپے وصول کیے گئے، جو گزشتہ سال کے 43 ارب روپے سے معمولی اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ برآمدات پر فی الحال 1 فیصد ٹیکس سیکشن 154 کے تحت اور مزید 1 فیصد سیکشن 147(6C) کے تحت لاگو ہے۔
ملک بھر میں لاکھوں تھوک اور پرچون فروش سرگرم ہیں لیکن ان کی ٹیکس ادائیگی مجموعی طور پر محدود رہی۔ تھوک فروشوں نے سیکشن 236G کے تحت 14.6 ارب روپے ادا کیے جبکہ پرچون فروشوں نے سیکشن 236H کے تحت 11.5 ارب روپے ٹیکس دیا۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں ان شعبوں کی ادائیگی میں اضافہ ہوا ہے مگر پھر بھی قومی خزانے میں ان کا حصہ نہایت کم ہے۔
ٹیکس ماہرین کے مطابق ان اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں تنخواہ دار طبقہ ٹیکس نظام کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھا رہا ہے، جبکہ وہ طبقات جو حقیقی منافع کماتے ہیں، جیسا کہ پراپرٹی ڈیلرز، برآمد کنندگان اور تاجر، ان کی شراکت ناکافی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فرق نہ صرف نظام کی عدم مساوات کو ظاہر کرتا ہے بلکہ ٹیکس اصلاحات کی فوری ضرورت کو بھی اجاگر کرتا ہے تاکہ بوجھ یکساں طور پر تمام طبقات پر تقسیم کیا جا سکے۔

