اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے سیز فائر معاہدے میں واضح طور پر طے پایا تھا کہ کسی قسم کی دراندازی نہیں ہوگی اور ٹی ٹی پی کو افغان سرزمین پر کوئی سہولت فراہم نہیں کی جائے گی۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے دوران پاکستان کا مؤقف بالکل صاف تھا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ قطر اور ترکیے نے اس عمل میں ثالثی کا کردار ادا کیا اور دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ہم بارہا یہ بات دہراتے رہے ہیں کہ مسئلے کی جڑ یہی ہے کہ ٹی ٹی پی کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں۔ تاہم افغان حکام اس الزام کی تردید کرتے رہے ہیں۔ ترکیہ اور قطر کے نمائندوں نے بھی اس نکتے پر زور دیا کہ اصل تنازع افغانستان کی سرزمین کے دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے پیدا ہوتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ سیز فائر معاہدے کے لیے کوئی مخصوص مدت مقرر نہیں کی گئی تھی۔ معاہدے میں یہ نہیں کہا گیا کہ یہ کسی مخصوص تاریخ تک نافذ العمل رہے گا، بلکہ اس کی مدت اسی وقت تک برقرار ہے جب تک اس کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق، اگر دونوں فریق معاہدے کی شقوں پر عمل کرتے رہیں تو جنگ بندی کا تسلسل خود بخود جاری رہے گا۔
یاد رہے کہ چند روز قبل پاکستان اور افغانستان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جنگ بندی معاہدہ طے پایا تھا۔ معاہدے کے دوران قطر اور ترکیے نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ سیز فائر معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک اور اہم اجلاس ترکیے میں 25 سے 27 اکتوبر تک متوقع ہے، جہاں دونوں ممالک اس معاہدے کی پیش رفت کا جائزہ لیں گے۔

