اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ مذہب کے نام پر بننے والے جتھے کسی بھی ریاست میں قابل قبول نہیں، اب ریاست قانون، آئین اور ضابطے کے مطابق چلے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مذہب کے نام پر کئی دہائیوں سے ایسے جتھے تیار کیے جاتے رہے ہیں، سب کو معلوم ہے کہ انہیں کون اور کس مقصد کے لیے بناتا رہا ہے، لیکن اب یہ سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔ ریاست کسی بھی وقت یا ذاتی مفاد کے مطابق نہیں بلکہ آئینی اصولوں کے تحت چلے گی۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ٹی ایل پی پر پابندی کے معاملے پر وہ بات نہیں کریں گے مگر ایسے گروہ جو املاک کو نقصان پہنچائیں یا عوام کو تشدد پر اکسانے کی کوشش کریں، ان کے لیے کسی رعایت کی گنجائش نہیں ہوگی۔
وزیر دفاع نے زور دیا کہ پاکستان کو ایک سخت (ہارڈ) اسٹیٹ بننا ہوگا، کیونکہ مذہبی انتہاپسند جماعتیں اور شدت پسند جتھے نہ صرف ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ ریاستی عملداری کو بھی چیلنج کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذہب کے نام پر کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ انہیں مولانا فضل الرحمان کے کارکنان کو اسلام آباد جانے کے لیے تیار رہنے کے بیان کا علم نہیں، تاہم وہ مولانا کا احترام کرتے ہیں اور ان کے بارے میں کسی قسم کا تبصرہ نہیں کریں گے۔

