سندھ کے شہر میرپور خاص میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں پولیس اسٹیشن میں فریاد لے کر آنے والی خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف شہریوں بلکہ پولیس کے اعلیٰ حکام کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
ضلع پولیس کے ترجمان کے مطابق متاثرہ خاتون نے ڈی آئی جی کو جمع کرائی گئی درخواست میں بتایا کہ وہ اپنی لاپتہ بیٹی کی بازیابی کے لیے مہران پولیس اسٹیشن گئی تھی جہاں ڈیوٹی پر موجود اہلکار نے مبینہ طور پر اسے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ درخواست موصول ہونے کے بعد اعلیٰ افسران نے فوری نوٹس لیا اور واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا۔
پولیس ترجمان کے مطابق متاثرہ خاتون کی مدعیت میں زیادتی کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ واقعے کی سنگینی کے پیش نظر ایس ایس پی میرپور خاص ڈاکٹر سمیر نور چنہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایس ایچ او میرخادم تالپور کو معطل کر دیا ہے اور انکوائری کا آغاز کر دیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق خاتون کی درخواست کے بعد ایس ایچ او اور متاثرہ خاتون دونوں کے میڈیکل نمونے حاصل کر کے ٹیسٹ کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔ تفصیلی میڈیکل رپورٹ موصول ہونے کے بعد مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق اس واقعے نے عوام میں شدید غم و غصے کی لہر پیدا کر دی ہے اور شہری حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ واقعے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ اصل حقائق سامنے آئیں اور ملزم کو قرار واقعی سزا دی جا سکے۔

