لاہور میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے پاکستانی نژاد آسٹریلوی شہری پر مبینہ تشدد کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ متاثرہ شہری کے چہرے، ہاتھوں اور ٹانگوں پر تشدد کے واضح نشانات پائے گئے ہیں جس کے باعث معاملہ سنگین نوعیت اختیار کر گیا ہے۔
پاکستانی نژاد آسٹریلوی شہری خواجہ ذیشان نے تھانہ ٹبی سٹی میں واقعے کے خلاف درخواست دائر کر دی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 24 اکتوبر کو وہ ٹبی سٹی کے علاقے سے گزر رہا تھا کہ پولیس کے تین اہلکاروں نے اسے روکا اور بغیر کسی جواز کے تشدد کا نشانہ بنایا۔ مارپیٹ کے دوران اس کا چہرہ لہولہان ہو گیا جبکہ ہاتھ اور ٹانگوں پر گہرے زخم آئے۔
درخواست گزار نے بتایا کہ اہلکاروں کا کہنا تھا کہ تمہیں رکنے کا اشارہ کیا گیا تھا لیکن تم نے گاڑی نہیں روکی۔ خواجہ ذیشان کے مطابق پولیس اہلکار اسے تھانہ بھاٹی گیٹ لے گئے جہاں اس سے موبائل فون اور گاڑی کی چابیاں چھین لی گئیں۔ اس نے مزید بتایا کہ اس کی بھانجی اور اس کے شوہر نے تھانے پہنچ کر اسے حراست سے چھڑایا۔
متاثرہ شہری نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ پولیس اہلکاروں نے اس کی گاڑی سے تین ہزار آسٹریلوی ڈالر چُرا لیے۔ اس واقعے کے بعد متاثرہ شخص نے اعلیٰ حکام سے انصاف کی اپیل کی ہے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب ایس پی سٹی بلال احمد کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور پولیس تمام پہلوؤں سے معاملے کا جائزہ لے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اہلکار قصوروار پائے گئے تو ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

