اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما شازیہ مری نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت بننے سے متعلق کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا۔
اپنے ایک بیان میں شازیہ مری نے کہا کہ اگر سرکاری ترقیاتی پروگرام کے فیصلے بند کمروں میں کیے جائیں تو یہ درست طریقہ نہیں، ایسے اقدامات شفافیت کے برعکس ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی میں نہ جائیں تو اجلاس کا کورم بھی پورا نہیں ہوتا اور اجلاس ملتوی کرنا پڑتا ہے۔
شازیہ مری نے مزید کہا کہ جب شہباز شریف وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار بننے کی خواہش لے کر پیپلز پارٹی کے پاس آئے تو اس وقت کچھ نکات پر بات چیت ہوئی تھی۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم کرنے سے متعلق کوئی تحریری یا زبانی معاہدہ نہیں ہوا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ مجلسِ منتظمہ کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے ارکان نے حکومت کے طرزِ عمل پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا، جس پر صدر آصف علی زرداری نے یقین دہانی کرائی کہ جو معاہدے طے پائے تھے، ان پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں بلوچستان میں حکومت سازی کے حوالے سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان مبینہ "ڈھائی ڈھائی سال” کے معاہدے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے بعض اراکین اسمبلی کا کہنا تھا کہ انہیں ان کی مرکزی قیادت نے اس معاہدے سے آگاہ کیا ہے۔
تاہم پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ ایسا کوئی معاہدہ ان کے علم میں نہیں، اور پیپلز پارٹی بلوچستان میں اپنی آئینی مدت یعنی 5 سال پورے کرے گی۔

