صبح جاگنے کے بعد ہماری معمولات دراصل ہماری روزمرہ زندگی کی بنیاد بنتے ہیں، اور انہی عادات سے جسمانی صحت، ذہنی توانائی اور اعضاء کے افعال پر اثر پڑتا ہے۔ ماہرین کے مطابق بیداری کے فوراً بعد کیے گئے کام گردوں کی صحت پر خاص طور پر گہرا اثر ڈالتے ہیں، کیونکہ گردے رات بھر مسلسل کام کرتے ہیں تاکہ جسم سے فاسد مادوں اور اضافی سیال کو خارج کیا جا سکے۔
گردے انسانی جسم کے لیے ویسے ہی اہم ہیں جیسے کسی واٹر فلٹر کا پانی کے لیے ہونا۔ یہ خون کو صاف کرتے ہیں، زہریلے مواد کو خارج کرتے ہیں، جسم میں نمکیات اور پانی کی سطح کو متوازن رکھتے ہیں، اور وہ ہارمونز تیار کرتے ہیں جو بلڈ پریشر، ہڈیوں اور خون کی پیداوار میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لیے صبح کے وقت کی چند معمولی غلطیاں بھی گردوں کے افعال کو متاثر کر سکتی ہیں۔
پانی نہ پینا
رات بھر سونے کے بعد جسم میں پانی کی کمی واقع ہوتی ہے۔ اس وقت گردے پانی کے متقاضی ہوتے ہیں تاکہ اپنے کام کو بحسن و خوبی انجام دے سکیں۔ مگر اکثر لوگ جاگنے کے بعد پانی کے بجائے چائے یا کافی کا استعمال کرتے ہیں، جو جسم میں مزید ڈی ہائیڈریشن پیدا کرتی ہے۔ اس طرح گردوں پر دباؤ بڑھتا ہے اور وہ مؤثر طریقے سے فاسد مادوں کو خارج نہیں کر پاتے۔
پیشاب روکنے کی عادت
بیدار ہونے کے بعد پیشاب روکنے کی عادت نہ صرف مثانے بلکہ گردوں کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ رات بھر کے دوران مثانہ بھر جاتا ہے، اور اگر صبح کے وقت پیشاب روک لیا جائے تو دباؤ گردوں تک منتقل ہوتا ہے، جس سے گردے وقت کے ساتھ کمزور ہو سکتے ہیں اور انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
خالی پیٹ درد کش ادویات کا استعمال
خالی پیٹ درد کش ادویات، خاص طور پر وہ جو نان اسٹیرائیڈل اینٹی انفلامیٹری گروپ (NSAIDs) سے تعلق رکھتی ہیں، گردوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق ایسی ادویات کا زیادہ استعمال گردوں میں خون کے بہاؤ کو کم کر دیتا ہے، اور خالی پیٹ لینے سے یہ نقصان دہ اثر مزید بڑھ جاتا ہے۔
ورزش کے بعد پانی نہ پینا
صبح کے وقت ورزش کرنا صحت کے لیے مفید ہے، لیکن اگر ورزش کے بعد پانی نہ پیا جائے تو جسم میں پانی کی کمی گردوں پر دباؤ ڈالتی ہے۔ پسینہ آنے سے جسم سے سیال کم ہو جاتے ہیں، جنہیں دوبارہ پورا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ پانی نہ پینے سے گردے فاسد مادے مؤثر انداز میں خارج نہیں کر پاتے۔
ناشتے سے گریز کرنا
صبح کے وقت ناشتہ چھوڑ دینا نہ صرف توانائی کی کمی کا باعث بنتا ہے بلکہ گردوں کے افعال پر بھی منفی اثر ڈالتا ہے۔ ناشتہ نہ کرنے والے افراد عام طور پر بعد میں زیادہ نمکین یا غیر صحت بخش غذائیں کھانے کے عادی ہوتے ہیں، اور زیادہ نمک کا استعمال گردوں کے لیے زہرِ قاتل سمجھا جاتا ہے۔ پروٹین اور فائبر سے بھرپور ناشتہ دن بھر کے لیے توانائی فراہم کرتا ہے اور گردوں کی کارکردگی بہتر بناتا ہے۔
گردوں کی صحت برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ صبح کے وقت چند بنیادی باتوں کا خیال رکھا جائے — جاگنے کے فوراً بعد پانی پیا جائے، پیشاب کو نہ روکا جائے، خالی پیٹ ادویات کے استعمال سے گریز کیا جائے، ورزش کے بعد مناسب مقدار میں پانی پیا جائے اور صحت مند ناشتہ کیا جائے۔

