بیت المقدس سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی جیلوں میں اس وقت 49 فلسطینی خواتین قید ہیں، جن میں 2 کم عمر لڑکیاں اور غزہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون بھی شامل ہیں۔ فلسطینی قیدیوں کی سوسائٹی نے بتایا ہے کہ یہ تمام خواتین جیلوں اور تفتیشی مراکز میں سنگین نوعیت کی بدسلوکی اور تشدد کا سامنا کر رہی ہیں۔
پالیسٹینین پرزنرز سوسائٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ 7 اکتوبر 2023 کو غزہ میں اسرائیلی حملوں کے آغاز کے بعد سے خواتین قیدیوں کے ساتھ ظلم و زیادتی میں ناقابلِ تصور حد تک اضافہ ہوا ہے۔ تنظیم کے مطابق اسرائیلی حکام نے نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی کی ہے بلکہ خواتین قیدیوں کو جسمانی و ذہنی اذیت دینے کا سلسلہ بھی تیز کر دیا ہے۔
بیان میں مزید بتایا گیا کہ اکتوبر 2023 کے بعد فلسطینی قیدیوں کی مجموعی حالت انتہائی خراب ہو چکی ہے۔ جیلوں میں قیدی خواتین کو کھانے پینے کی اشیاء کی شدید کمی کا سامنا ہے، انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں، جبکہ تلاشی کے دوران جنسی ہراسانی، توہین آمیز سلوک، گالیاں اور مار پیٹ معمول بن چکی ہے۔
سوسائٹی کے مطابق اسرائیلی تفتیشی مراکز میں خواتین قیدیوں کو بارہا ریپ کی دھمکیاں دی جاتی ہیں اور ان کے ساتھ ایسا رویہ اپنایا جاتا ہے جس کا مقصد ان کی ذہنی حالت کو کمزور کرنا ہوتا ہے۔ کئی قیدی خواتین کو غیر انسانی حالات میں رکھا گیا ہے اور انہیں اپنے اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔
فلسطینی قیدیوں کی سوسائٹی نے بتایا کہ اس وقت اسرائیلی جیلوں میں قید خواتین میں کینسر کی مریضہ فدا عساف، غزہ کی تسنیم الہمس، اور دو کم عمر لڑکیاں سلی صدقہ اور حنا حماد شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حنا حماد کو انتظامی حراست کے تحت بغیر کسی مقدمے یا الزام کے قید رکھا گیا ہے۔
سوسائٹی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اسرائیلی جیلوں میں موجود 12 فلسطینی خواتین ایسی ہیں جن پر اب تک کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا۔ ان خواتین کو محض شبہ یا انتقامی کارروائی کے تحت گرفتار کیا گیا اور کئی کو کئی مہینوں سے تفتیشی عمل میں رکھا گیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ خواتین قیدیوں کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی، تشدد اور غیر انسانی سلوک کو فی الفور روکا جائے اور انہیں بین الاقوامی قوانین کے مطابق حقوق فراہم کیے جائیں۔ فلسطینی عوام اور عالمی تنظیموں نے بھی ان خواتین کی رہائی کے لیے اپنی آواز بلند کی ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل کی یہ پالیسی انسانی وقار اور عالمی ضمیر کے خلاف ہے۔

