اسلام آباد میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو رواں مالی سال کے ابتدائی چار ماہ میں 270 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کا سامنا ہے، ادارہ اپنے مقررہ اہداف کے مطابق مطلوبہ ٹیکس وصولی حاصل نہیں کر سکا۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے جولائی سے اکتوبر 2025 کے دوران 3 ہزار 840 ارب روپے کا ریونیو اکٹھا کیا، جبکہ اسی عرصے کے لیے 4 ہزار 109 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔
ادارے نے بتایا کہ اس عرصے کے دوران 205 ارب روپے کے ریفنڈز بھی جاری کیے گئے۔ صرف اکتوبر 2025 کے مہینے میں ہی ایف بی آر کو 70 ارب روپے سے زائد کے شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا۔ اکتوبر میں 955 ارب روپے ٹیکس وصول ہوا، جبکہ ہدف 1026 ارب روپے مقرر تھا۔
تفصیلات کے مطابق انکم ٹیکس کی مد میں 438 ارب روپے حاصل کیے گئے، سیلز ٹیکس کی مد میں 345 ارب روپے اکٹھے ہوئے، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے 70 ارب روپے جبکہ کسٹمز ڈیوٹی سے 107 ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوا۔
ذرائع کے مطابق انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹی اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی — تمام بڑے شعبوں میں ریونیو مقررہ اہداف سے کم رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ درآمدات میں کمی، معاشی سست روی اور کاروباری سرگرمیوں میں کمی کی وجہ سے ٹیکس وصولیوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں، تاہم مالی سال کے باقی عرصے میں شارٹ فال کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

