اسلام آباد: وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد مسلسل تاخیر کا شکار ہے اور ذرائع کے مطابق آج بھی اس کے پیش کیے جانے کا امکان نہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی تاحال اس بات پر فیصلہ نہیں کر سکی کہ تحریکِ عدم اعتماد کب پیش کی جائے، جبکہ فارورڈ بلاک سے پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والے کئی ارکانِ اسمبلی شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
اطلاعات کے مطابق فارورڈ بلاک کے بعض ارکان نے پارٹی میں شمولیت کے فیصلے کو جلد بازی قرار دیا ہے، اور اب پیپلز پارٹی کے ارکان اپنی قیادت سے سوال کر رہے ہیں کہ وہ اپنے حلقوں میں عوام کو کیا جواب دیں، کیونکہ ووٹر یہ پوچھ رہے ہیں کہ پارٹی نے آخر فیصلہ کیا کیا۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے بیشتر ارکان ان دنوں کشمیر ہاؤس میں موجود ہیں اور پارٹی قیادت کے فیصلے کے منتظر ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ تحریکِ عدم اعتماد کے حوالے سے حتمی فیصلہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری خود کریں گے۔ تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ تین سے چار روز تک تحریکِ عدم اعتماد پیش کیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
یاد رہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانے پر اتفاق کیا تھا، مگر مسلم لیگ (ن) نے واضح کر دیا ہے کہ وہ نئی حکومت سازی میں پیپلز پارٹی کا ساتھ نہیں دے گی۔ ن لیگ کا کہنا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی کے پاس مطلوبہ اکثریت موجود ہے تو وہ حکومت بنانے کا حق رکھتی ہے، بصورت دیگر ن لیگ اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔
سیاسی ماہرین کے مطابق تحریکِ عدم اعتماد میں تاخیر سے نہ صرف پیپلز پارٹی کے اندر بے چینی بڑھ رہی ہے بلکہ آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال بھی غیر یقینی کا شکار ہو گئی ہے۔

