برطانیہ کے علاقے کیمرج شائر میں ٹرین میں ہونے والے خونی حملے نے ملک بھر میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ واقعے میں تیز دھار آلے سے حملہ کیے جانے کے نتیجے میں 10 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے 9 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ ڈانکاسٹر سے لندن کنگز کراس جانے والی ٹرین میں پیش آیا، جو مقامی وقت کے مطابق شام 6 بج کر 25 منٹ پر روانہ ہوئی تھی۔ واقعہ کے فوراً بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ہنٹنگڈن اسٹیشن پر دو مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا۔
پولیس نے بتایا کہ متاثرہ ٹرین میں سوار متعدد مسافروں کو لندن جانے والی بسوں میں منتقل کر دیا گیا تاکہ انہیں محفوظ مقام تک پہنچایا جا سکے۔ کیمرج شائر پولیس نے اس واقعے کو "بڑا حادثہ” قرار دیا ہے اور بتایا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے ماہر افسران اس واقعے کی تحقیقات میں معاونت کر رہے ہیں۔
ایک عینی شاہد کے مطابق، اس نے ایک شخص کو دیکھا جس کے بازو پر خون لگا ہوا تھا اور وہ بوگی کے اندر دوڑتے ہوئے چیخ رہا تھا، “ان کے پاس چاقو ہے، بھاگو!” اس کے فوراً بعد ایک اور شخص کو زمین پر گرا ہوا دیکھا گیا، جس سے مسافروں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق، زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان میں سے 9 کی حالت تشویشناک ہے۔ پولیس اور ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اس خوفناک واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتہائی پریشان کن اور افسوسناک سانحہ ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کریں، افواہوں سے گریز کریں اور امن و امان برقرار رکھنے میں پولیس سے تعاون کریں۔
پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم تاحال حملے کی وجوہات یا محرکات کے بارے میں کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ حکام نے عوام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ حقائق سامنے آنے کے بعد تفصیلی رپورٹ جاری کی جائے گی۔

