غزہ میں ملبہ ہٹانے کے دوران 17 لاشیں ملیں، شہدا کی تعداد 68 ہزار 858 ہوگئی
غزہ: جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ تھم نہ سکا، قابض فوج کے تازہ حملوں میں گزشتہ دو روز کے دوران مزید پانچ فلسطینی شہید ہو گئے، جب کہ ملبہ ہٹانے کے دوران 17 مزید لاشیں برآمد ہوئیں، جس کے بعد شہدا کی مجموعی تعداد 68 ہزار 858 تک جا پہنچی ہے۔
غزہ کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فضائی اور زمینی کارروائیاں جاری ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق اسرائیلی افواج نے رہائشی عمارتوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس سے درجنوں مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ امدادی ٹیموں کو مسلسل بمباری کے باعث ملبہ ہٹانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
دوسری جانب مغربی کنارے میں بھی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ غیر قانونی یہودی آبادکاروں نے فلسطینی بستیوں پر حملہ کرتے ہوئے متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی، جس کے نتیجے میں تین فلسطینی زخمی ہوگئے۔ عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فوج نے بجائے مداخلت کے، حملہ آوروں کو تحفظ فراہم کیا۔
ادھر حماس کے عبوری سربراہ خلیل الحیہ نے استنبول میں ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان سے ملاقات کی، جس میں غزہ کی تازہ صورتحال اور جنگ بندی کے بعد کے ممکنہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے اور امداد کی بلا تعطل فراہمی پر اتفاق کیا۔
غزہ میں استحکام اور امن کے قیام کے لیے عرب اور اسلامی ممالک کا ایک اہم اجلاس بھی پیر کو استنبول میں منعقد ہوگا۔ اجلاس میں پاکستان، قطر، اردن، سعودی عرب، انڈونیشیا اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ شرکت کریں گے، جہاں غزہ استحکام فورس کے قیام پر غور کیا جائے گا تاکہ فلسطینی علاقوں میں انسانی امداد اور سکیورٹی اقدامات کو مربوط بنایا جا سکے۔

