اسلام آباد: ایک حالیہ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک بھر میں فروخت ہونے والے سگریٹ برانڈز میں سے 81.01 فیصد پر ٹیکس اسٹمپ (محصولی مہر) موجود نہیں، جو کہ تمباکو کی صنعت میں بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری کی نشاندہی کرتا ہے۔
سروے کے مطابق صرف 12.03 فیصد سگریٹ برانڈز ایسے ہیں جن پر باقاعدہ ٹیکس اسٹیمپ لگا ہوا ہے، جب کہ 6.96 فیصد برانڈز ایسے بھی پائے گئے جو بیک وقت ٹیکس شدہ اور بغیر ٹیکس دونوں صورتوں میں فروخت ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ قانونی سگریٹ ساز کمپنیوں کے ساتھ ساتھ ایک متوازی غیر قانونی مارکیٹ بھی سرگرم ہے جو حکومت کو اربوں روپے کے ریونیو سے محروم کر رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف ملکی خزانے کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ صحت عامہ کے قوانین پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے، کیونکہ غیر قانونی سگریٹ عموماً معیار کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتیں۔
دوسری جانب فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس چوری کی مختلف صورتوں کے خلاف کڑی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ ادارے نے سوشل میڈیا پر پرتعیش طرزِ زندگی کی نمائش کرنے والے افراد کی جانچ پڑتال کے لیے اپنی ٹیم کو مزید وسعت دے دی ہے۔
ایف بی آر حکام کے مطابق ایسے افراد کے گوشواروں اور اُن کے طرزِ زندگی کے درمیان بڑے تضادات سامنے آئے ہیں، جن میں ظاہر کیا گیا ہے کہ بعض افراد کم ٹیکس ادا کر کے بھی اربوں روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ اس سلسلے میں ڈیجیٹل مانیٹرنگ، بینک ریکارڈ اور سوشل میڈیا سرگرمیوں کے ذریعے ٹیکس نادہندگان کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا گیا ہے۔

