نئی دہلی: معروف بھارتی صحافی اور سماجی کارکن رعنا ایوب اور ان کے والد کو نامعلوم افراد کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد بین الاقوامی صحافتی تنظیموں نے بھارتی حکومت سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دھمکیاں بین الاقوامی نمبر سے ویڈیو اور فون کالز کے ذریعے دی گئیں۔ ملزمان نے مطالبہ کیا کہ رعنا ایوب 1984 کے سکھ فسادات پر کالم لکھیں، بصورت دیگر انہیں سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔
رعنا ایوب نے بھارتی حکام کو بتایا کہ انہیں مسلسل ہراسانی، گالم گلوچ اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جس سے ان کی اور ان کے اہلِ خانہ کی زندگی کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CPJ) نے بھارتی حکام پر زور دیا ہے کہ رعنا ایوب اور ان کے خاندان کی سیکیورٹی کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے۔
سی پی جے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں صحافیوں کے خلاف بڑھتا ہوا تشدد اور خوف کی فضا آزادیٔ صحافت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ حکومت کو ذمہ دار عناصر کی شناخت اور گرفتاری میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔
واضح رہے کہ رعنا ایوب ماضی میں بھی بھارت میں انسانی حقوق کی پامالیوں، مذہبی اقلیتوں پر مظالم اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید کے باعث نشانے پر رہی ہیں۔ وہ متعدد بین الاقوامی ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں اور عالمی سطح پر آزادیٔ صحافت کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔

