کراچی: پاکستان پیپلزپارٹی کی مرکزی رہنما شازیہ مری نے کہا ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم صوبوں کے دلوں کے بہت قریب ہے اور اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے 27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے قیاس آرائیاں جاری ہیں، تاہم اب حکومت نے باقاعدہ طور پر پیپلزپارٹی سے رابطہ کیا ہے اور ترمیم کے لیے حمایت مانگی ہے۔
شازیہ مری کا کہنا تھا کہ صوبوں کے اختیارات پر اتفاق رائے پیپلزپارٹی کا تاریخی کردار رہا ہے، 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو بااختیار بنایا گیا اور اس میں کمی یا پسپائی کسی صورت قبول نہیں کی جا سکتی۔ ان کے مطابق 18ویں ترمیم نہ صرف صوبوں کے مفادات کی ضامن ہے بلکہ فیڈریشن کو مضبوط بنانے کا بنیادی ستون بھی ہے۔
پیپلزپارٹی رہنما نے واضح کیا کہ 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق حکومت کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ نکات کو پارٹی کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) میں پیش کیا جائے گا، جہاں تفصیلی مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ عوامی ایشوز پر بات چیت جاری ہے، تاہم 27ویں آئینی ترمیم کو عوامی اور وفاقی مفاد کے زاویے سے دیکھا جائے گا۔ شازیہ مری کے مطابق پیپلزپارٹی ہر فیصلے کو اپنے اصولی مؤقف کی روشنی میں پرکھے گی، اگر حکومت کسی معاملے پر متفق ہے اور ہمیں قائل کرنا چاہتی ہے تو اس پر بات چیت ہو سکتی ہے، لیکن صوبائی خودمختاری پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

