ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کے 2025 رول آف لا انڈیکس کے مطابق ڈنمارک کو دنیا کا سب سے زیادہ قانون پسند ملک قرار دیا گیا ہے، جبکہ پاکستان کی درجہ بندی ایک بار پھر 130ویں نمبر پر برقرار رہی۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے بیشتر ممالک میں قانون کی حکمرانی مزید کمزور ہوئی ہے، جہاں 68 فیصد ممالک نے گزشتہ سال کے مقابلے میں زوال کا سامنا کیا۔
رپورٹ کے مطابق ڈنمارک مسلسل پہلے نمبر پر ہے جبکہ ناروے، فن لینڈ اور سویڈن بالترتیب دوسرے، تیسرے اور چوتھے نمبر پر موجود ہیں۔ ان ممالک کو مضبوط عدالتی نظام، شفاف گورننس اور شہری حقوق کے مؤثر تحفظ کے باعث سرفہرست قرار دیا گیا۔
دوسری جانب امریکا کی درجہ بندی میں کمی دیکھنے میں آئی اور وہ 27ویں نمبر پر آ گیا، جبکہ چین معمولی بہتری کے ساتھ 92ویں نمبر پر پہنچ گیا۔ بھارت نے 79ویں پوزیشن حاصل کی، تاہم جنوبی ایشیا کے خطے میں قانون کی حکمرانی کے لحاظ سے مجموعی کارکردگی کمزور رہی۔
فہرست کے آخری نمبروں پر وینزویلا (143واں نمبر) اور افغانستان (142واں نمبر) شامل ہیں، جبکہ روس اور سوڈان جیسے ممالک میں بھی نمایاں گراوٹ دیکھی گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں حکومتی طاقت پر مؤثر پابندیوں میں کمی، آمریت کے بڑھتے رجحانات اور عدالتی آزادی میں مداخلت کے باعث قانون کی حکمرانی خطرے میں ہے۔
ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کا کہنا ہے کہ اس عالمی تنزلی کے نتیجے میں شہریوں کے بنیادی حقوق، انصاف تک رسائی اور احتساب کے نظام پر اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے، جس سے جمہوری اقدار کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

