سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کو اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا، حالانکہ لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے انہیں عمرے کے لیے جانے کی اجازت دے رکھی تھی۔
عدالتی فیصلے کے مطابق شیخ رشید کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ اور پی این آئی ایل سے نکالنے کا حکم جاری کیا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود ایف آئی اے حکام نے انہیں ایئرپورٹ پر روک لیا۔ ذرائع کے مطابق متعلقہ اداروں کو عدالتی احکامات کی کاپیاں بھی بھیجی گئی تھیں، لیکن امیگریشن حکام نے مؤقف اپنایا کہ ان کے سسٹم میں ابھی تک اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا۔
شیخ رشید نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس صداقت علی خان نے انہیں عمرے پر جانے کی اجازت دی تھی، مگر ائیرپورٹ پر روک کر کہا گیا کہ آپ بیرون ملک نہیں جا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے واضح ہدایات دی تھیں کہ کوئی شکایت نہ ہو، اس کے باوجود عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کی گئی۔
اپنے ویڈیو بیان میں سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ توہین عدالت کے لیے دوبارہ عدالت جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ “جس ملک میں ہائیکورٹ کا حکم نہ چلے، وہاں آسمان کی طرف ہی دیکھنا پڑتا ہے۔ اللہ عمرہ بھی کروائے گا اور ان کو اپنے فیصلے پر شرمندہ بھی ہونا پڑے گا۔”

