ترکیہ کی وزارتِ خارجہ کے مطابق، اجلاس میں دونوں ممالک جنگ بندی کے نفاذ کے طریقہ کار کو حتمی شکل دیں گے اور ایک نگرانی و تصدیقی نظام قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے، جو جنگ بندی کی خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی یقینی بنائے گا۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کا وفد مذاکرات کے لیے جا چکا ہے۔ ہمارا مؤقف واضح ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی دہشت گردی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں ہمیشہ اسی وقت پیش رفت ممکن ہوتی ہے جب دونوں فریقین سنجیدہ ہوں، اگر ایسا نہ ہو تو مذاکرات وقت کا ضیاع ثابت ہوتے ہیں۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پاکستان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان پر حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ افغان طالبان خطے میں امن و استحکام کے لیے دانش مندی سے کام لیں گے۔
ذرائع کے مطابق، استنبول مذاکرات کے اس تیسرے دور میں فریقین جنگ بندی کے عملی نفاذ کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کی کوشش کریں گے۔ اس سے قبل مذاکرات کے دوسرے دور میں بھی اس معاملے پر جزوی اتفاقِ رائے سامنے آیا تھا۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق، طالبان حکومت کے ایک ذریعے نے بتایا کہ افغان وفد میں انٹیلی جنس چیف عبدالحق واثق، نائب وزیرِ داخلہ رحمت اللہ نجیب، دوحہ میں طالبان کے سفیر سہیل شاہین، انس حقانی، عبدالقہار بلخی اور دیگر سینئر نمائندے شامل ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی جب 11 اکتوبر کی رات افغانستان کی جانب سے پاکستانی سرحد پر حملے کیے گئے۔ اس کے بعد 19 اکتوبر کو دوحہ میں دونوں ممالک کے درمیان ایک ابتدائی جنگ بندی معاہدہ طے پایا، جس کے نتیجے میں ترکیہ اور قطر کی کوششوں سے مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا۔
پاک افغان مذاکرات کا دوسرا دور 25 اکتوبر کو استنبول میں منعقد ہوا تھا، جو طویل اور اعصاب شکن نوعیت کا رہا۔ تاہم اس میں افغان سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے کے پاکستانی مطالبے پر کوئی واضح پیش رفت نہ ہو سکی۔
ذرائع کے مطابق، اس دوران افغان وفد اکثر کابل اور قندہار سے ہدایات لیتا رہا جس کے باعث مذاکرات میں سست روی پیدا ہوئی۔ مذاکرات کی ناکامی کے بعد پاکستانی وفد وطن واپسی کے لیے روانہ ہو چکا تھا، تاہم ترکیہ کی درخواست پر فریقین نے ایک بار پھر مذاکرات کو ایک آخری موقع دینے پر اتفاق کیا۔

