اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ ابھی تک منظرِ عام پر نہیں آیا، جب یہ سامنے آئے گا تو اس کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ فیصل واوڈا کسی خاص پیغام کے ساتھ نہیں آئے تھے، وہ صرف ملاقات کے لیے آئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی ملاقاتیں معمول کا حصہ ہیں، تاہم کسی آئینی ترمیم پر گفتگو اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس کا مسودہ واضح طور پر سامنے نہ آئے۔
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کے حوالے سے جو کاغذات گردش میں ہیں، ان کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ’’کچھ پیپر آؤٹ ہوئے ہیں، مگر یہ درست ہیں یا غلط، اس بارے میں کوئی تصدیق نہیں۔‘‘
انہوں نے زور دیا کہ ابھی تک 27 ویں ترمیم کے نکات عوام یا سیاسی جماعتوں کے سامنے نہیں لائے گئے، اس لیے قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان کی جماعت کسی بھی آئینی ترمیم پر حتمی مؤقف اسی وقت دے گی جب اسے باضابطہ طور پر پیش کیا جائے گا۔

