کوئٹہ: بلوچستان کے 11 اضلاع میں گزشتہ دس ماہ کے دوران 80 فیصد کم بارشوں کے باعث محکمہ موسمیات نے خشک سالی کا انتباہ جاری کر دیا ہے، جس سے صوبے میں زرعی اور لائیو اسٹاک کے شعبے بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
نیشنل ڈراؤٹ مانیٹرنگ سینٹر کی جانب سے جاری سرکلر کے مطابق کوئٹہ، چاغی، واشک، نوشکی، خاران، مستونگ، تربت، پنجگور، گوادر، آواران اور لسبیلہ ان اضلاع میں شامل ہیں جہاں معمول سے کہیں کم بارشیں ریکارڈ کی گئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 10 ماہ میں ان علاقوں میں اوسطاً 80 فیصد کم بارش ہوئی ہے، جس کے باعث زمینی پانی کی سطح تیزی سے نیچے جا رہی ہے اور فصلیں متاثر ہو رہی ہیں۔
ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ موسمیات محمد افضل کے مطابق اگر صورتحال یہی رہی تو صوبے کے بیشتر علاقے آئندہ مہینوں میں شدید خشک سالی کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بارشوں کی کمی سے زرعی پیداوار کم ہو گی، جس سے نہ صرف مقامی معیشت بلکہ خوراک کی فراہمی پر بھی اثر پڑے گا۔
دوسری جانب محکمہ لائیو اسٹاک کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ صوبے کی تقریباً 80 فیصد مالداری چراگاہوں پر منحصر ہے، اور اگر چراگاہیں خشک ہو گئیں تو لاکھوں جانوروں کی خوراک متاثر ہو سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف دودھ، گوشت اور چمڑے کی پیداوار میں کمی آئے گی بلکہ ہزاروں خاندانوں کا روزگار بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔
حکام کے مطابق صوبائی حکومت نے تمام ضلعی رابطہ کمیٹیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ خشک سالی کی بدلتی ہوئی صورتحال پر قریبی نگرانی رکھیں اور مقامی سطح پر آگاہی مہمات، معلومات کے تبادلے اور بروقت حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں بارشوں کی کمی موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے، اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں خشک سالی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

