سکھر: احتساب عدالت نے پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید احمد شاہ، اسپیکر سندھ اسمبلی اویس شاہ اور دیگر کے خلاف کرپشن کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے مقدمہ نیب سے ایف آئی اے کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق سکھر کی احتساب عدالت میں خورشید شاہ اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف دائر اثاثہ جات کیس کی سماعت جج غلام یاسین کولاچی نے کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے گزشتہ سماعت پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ یہ کیس نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، لہٰذا ریفرنس کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے حوالے کیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی سطح پر مزید کارروائی کر سکے۔
ریفرنس میں خورشید شاہ کے علاوہ ان کے بھتیجے و داماد، اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس شاہ، بیٹوں ایم پی اے فرخ شاہ، زیرک شاہ، دو بیویوں سمیت مجموعی طور پر اٹھارہ ملزمان نامزد ہیں۔
عدالتی فیصلے کے وقت سید خورشید شاہ کے صاحبزادے زیرک شاہ اپنے وکلا کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے موقع پر پیپلزپارٹی کے دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد بھی عدالت کے باہر موجود تھی۔
خیال رہے کہ نیب نے خورشید شاہ اور ان کے اہلِ خانہ پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے اور مختلف بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے تھے، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ شواہد کے تناظر میں یہ معاملہ اب نیب کے بجائے ایف آئی اے کے دائرہ کار میں آتا ہے۔
عدالتی حکم کے بعد کیس کی تمام دستاویزات اور شواہد ایف آئی اے کے حوالے کیے جائیں گے، جو اس ضمن میں نئی تحقیقات کا آغاز کرے گی۔

