ایبٹ آباد: ایبٹ آباد انٹرنیشنل میڈیکل کالج میں ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز آف پاکستان کے زیرِاہتمام ’’2030 کا پاکستان، چیلنجز، امکانات اور نئی راہیں‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں چیئرمین ایپ سپ پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے کہا کہ آج کا دن ایبٹ آباد کی تعلیمی تاریخ میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔
انہوں نے پاکستان کی 80 سالہ تاریخ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ اگلے 100 سال بعد ہمارا ملک کہاں کھڑا ہوگا۔ "پاکستان میں 95 فیصد مسلمان ہیں، ہم ایک اسلامی ریاست ہیں، مگر بدقسمتی سے شفافیت کے عالمی اشاریے میں ہمارا نمبر 135 واں ہے، جو ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔”
ڈاکٹر عبدالرحمان نے میاں عامر محمود کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ایک سچے پاکستانی اور وژنری رہنما ہیں، جو ہر سال ساڑھے چھ لاکھ طلبہ کو تعلیم کی روشنی فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، "میاں عامر محمود نے اس ملک کو 450 کالجز اور 4 یونیورسٹیاں دی ہیں، جو پاکستان کے نجی تعلیمی شعبے میں ایک تاریخی کارنامہ ہے۔”
انہوں نے کہا کہ ایبٹ آباد آنا ماضی کی کامیابیوں کا جشن منانے کے لیے نہیں بلکہ مستقبل کے لیے نئی راہیں تلاش کرنے کے مقصد سے ہے۔ "اگر ہم انفرادی طور پر خود کو نہیں بدلیں گے تو معاشرہ بھی نہیں بدلے گا۔ ہمیں ڈاکٹر یا انجینئر بننے سے پہلے ایک اچھا انسان بننا ہوگا۔”
ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے مزید کہا کہ پاکستان میں گورننس کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیے بغیر حقیقی تبدیلی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو ملک کی ترقی کے لیے بروئے کار لائیں۔
سیمینار کے اختتام پر چیئرمین ایپ سپ نے فیکلٹی اراکین اور طلبہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان کا 2030 کا منظرنامہ بیک وقت ایک چیلنج اور موقع ہے، اور ہمیں عزم، ایمان اور محنت کے ساتھ اس موقع کو کامیابی میں بدلنا ہوگا۔

