بھارت کی پسماندہ ترین ریاست بہار میں آج اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ جاری ہے، جس میں 243 نشستوں میں سے 121 پر ووٹ ڈالے جا رہے ہیں، جبکہ باقی نشستوں پر پولنگ منگل کو ہوگی۔
یہ انتخابات حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیے ایک کڑا امتحان ثابت ہو رہے ہیں، کیونکہ وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت حالیہ عرصے میں شدید تنقید اور عوامی دباؤ کا شکار ہے۔ پاکستان سے جنگ میں شکست کے بعد مودی حکومت کی ساکھ کو زبردست دھچکا لگا، جبکہ امریکا کی جانب سے 50 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کے معاشی اثرات نے صورتِ حال کو مزید خراب کر دیا ہے۔
بہار کے عوامی اور دیہی علاقوں میں معاشی ناہمواری انتہا کو پہنچ چکی ہے، امیر اور غریب کے درمیان فرق تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ بے روزگاری، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں زبوں حالی نے عوام میں شدید مایوسی پیدا کر دی ہے۔ اسکولوں کی خستہ حالت اور اسپتالوں میں سہولیات کی کمی بی جے پی حکومت کی ناکامیوں کو مزید نمایاں کر رہی ہے۔
اونچی ذات کے ہندوؤں کی نمائندہ سمجھی جانے والی بی جے پی نے 2020 میں جنتا دل (یونائٹڈ) کے ساتھ اتحاد کرکے حکومت قائم کی تھی، تاہم اب اتحادیوں کے درمیان اختلافات اور عوامی ناراضگی نے پارٹی کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں، خصوصاً کانگریس اور راشٹریا جنتا دل (آر جے ڈی)، نریندر مودی اور ان کی جماعت کو شکست دینے کے لیے متحد ہیں۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ بہار کی عوام تبدیلی کے لیے تیار ہے اور وہ اب روزگار، تعلیم، صحت اور مہنگائی جیسے حقیقی مسائل کے حل کے لیے ووٹ دیں گے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق، ریاست کے 8 کروڑ ووٹرز میں سے تقریباً 65 لاکھ کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کر دیے گئے ہیں، جس پر شدید اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ اقدام جان بوجھ کر ووٹنگ کے نتائج پر اثرانداز ہونے کے لیے کیا گیا ہے۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بی جے پی ایک بار پھر کامیاب ہو گئی تو نتائج پر سوالات اٹھنے کا امکان برقرار رہے گا۔ انتخابی نتائج 16 نومبر کو متوقع ہیں، تاہم زمینی حقائق اور عوامی ردعمل سے اندازہ ہوتا ہے کہ مودی سرکار کو بہار میں سخت چیلنج کا سامنا ہے۔

