نیویارک: نیویارک سٹی کے نو منتخب میئر ظہران ممدانی کی اہلیہ راما دواجی اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور خاموش مگر مؤثر کردار کے باعث اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔ اگرچہ وہ انتخابی مہم کے دوران عوامی نگاہوں سے دور رہیں، مگر ممدانی کی مہم کی بصری شناخت اور ڈیجیٹل حکمتِ عملی میں اُن کا کردار فیصلہ کن رہا۔
28 سالہ راما دواجی شامی نژاد امریکی آرٹسٹ ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی کے مختلف مراحل دنیا کے مختلف حصوں میں گزارے۔ وہ ٹیکساس میں پلی بڑھیں، دبئی میں تعلیم حاصل کی، اور صرف چار سال قبل نیویارک منتقل ہوئیں۔ اپنے غیر روایتی پس منظر اور کم عمری کے باوجود وہ اب نیویارک سٹی کی تاریخ کی کم عمر ترین فرسٹ لیڈی بن چکی ہیں — ایک منفرد اعزاز جو اُن کی شخصیت کی گہرائی کو مزید نمایاں کرتا ہے۔
انتخابی مہم کے دوران اگرچہ راما عوامی جلسوں، مباحثوں یا پریس کانفرنسوں میں نظر نہیں آئیں، مگر مہم کے لوگو، رنگوں کے امتزاج، پوسٹرز اور بصری شناخت کی تخلیق اُن کی ہی ڈیزائننگ کا نتیجہ تھی۔ زرد، نیلے اور نارنجی رنگوں کا امتزاج — جو ممدانی کی مہم کا علامتی حصہ بن گیا — راما کی جمالیاتی بصیرت کی عکاسی کرتا ہے۔
سوشل میڈیا پر وہ خود کو زیادہ تر فنونِ لطیفہ تک محدود رکھتی ہیں۔ اُن کے اکاؤنٹس پر ذاتی تشہیر کے بجائے اُن کے آرٹ ورک، فلسطینی حقوق سے متعلق تخلیقی مہمات، اور ثقافتی اظہار پر مبنی پوسٹس نمایاں ہیں۔ یہ محتاط مگر بامقصد موجودگی انہیں دیگر سیاسی شخصیات کی شریک حیات سے منفرد بناتی ہے۔
راما انٹرویوز دینے سے بھی گریز کرتی رہی ہیں، تاہم ظہران ممدانی نے مئی میں ایک انٹرویو کے دوران اپنی اہلیہ سے متعلق بڑھتی عوامی دلچسپی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا:
“راما صرف میری اہلیہ نہیں — وہ ایک باکمال آرٹسٹ ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ اُنہیں اپنی شناخت اپنے انداز میں قائم کرنے دیا جائے۔”
ممدانی کے قریبی حلقے اور دوست راما دواجی کو غیر معمولی، ذہین اور متاثرکن شخصیت قرار دیتے ہیں، جو نہ صرف اپنے فن بلکہ اپنی سادگی اور وقار سے بھی دوسروں کو متاثر کرتی ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ظہران ممدانی کے ابھرنے میں جہاں اُن کی عوامی جدوجہد اور اصولی سیاست کا کردار اہم ہے، وہیں پسِ پردہ راما دواجی کی تخلیقی سوچ اور بصری وژن نے مہم کو وہ پہچان دی جس نے نیویارک کے ووٹرز کے دلوں میں ایک نئی سیاست کا تصور بٹھا دیا۔

