امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ظہران ممدانی کی نیویارک سٹی کے میئر کے طور پر کامیابی کے بعد متنازع بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ "اب نیویارک کے شہری بڑی تعداد میں شہر چھوڑ کر فلوریڈا منتقل ہوں گے۔”
میا می میں بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ "نیو یارک سٹی نے الیکشن کے دن اپنی خودمختاری کھو دی ہے۔ دیکھتے ہیں ظہران ممدانی نیویارک میں کیسا کام کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ نیویارک کامیاب ہو، اور ہم ان کی تھوڑی مدد کریں گے۔” تاہم، ان کے لہجے سے واضح تھا کہ وہ ممدانی کی پالیسیوں پر گہری تشویش رکھتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ "اب میامی بھی جلد نیویارک سٹی سے آنے والے افراد کے لیے نئی پناہ گاہ بن جائے گا، کیونکہ لوگ ممدانی کے کمیونسٹ نظریات سے بچنا چاہتے ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ "نیویارک کے نومنتخب میئر کو واشنگٹن کے ساتھ نیا تعلق قائم کرنا چاہیے۔ اگر ظہران ممدانی تعاون نہیں کریں گے تو انہیں بڑا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔”
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ظہران ممدانی سے براہِ راست بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ "اگر وہ واقعی کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو انہیں واشنگٹن کا احترام کرنا ہوگا، کیونکہ وفاقی حکومت سے ٹکرا کر کوئی شہر ترقی نہیں کر سکتا۔”
اپنی تقریر کے دوران صدر ٹرمپ نے عالمی سیاست اور دفاعی امور پر بھی تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ "امریکا جوہری طاقت میں دنیا کا نمبر ون ملک ہے، لیکن کچھ لوگ اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرنا چاہتے۔ روس دوسرے اور چین تیسرے نمبر پر ہیں، تاہم اگلے چار سے پانچ سالوں میں چین ہمارے برابر آ سکتا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ تینوں ممالک کے درمیان تخفیفِ اسلحہ کا منصوبہ کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔”
صدر ٹرمپ نے جنوبی افریقہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "اب جنوبی افریقہ کو جی 20 ممالک کے گروپ میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔” انہوں نے اعلان کیا کہ وہ رواں ماہ کے آخر میں جنوبی افریقہ میں ہونے والے جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ اپنی تقریر کے اختتام پر ٹرمپ نے روایتی انداز میں ہلکا پھلکا رقص بھی کیا، جس پر شرکاء نے قہقہے لگائے۔
یاد رہے کہ ظہران ممدانی نیویارک کے پہلے مسلمان میئر بن گئے ہیں، اور وہ شہر کے سب سے کم عمر ترین میئر بھی ہیں۔ ان کی کامیابی کو تاریخی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ انہوں نے نہ صرف امریکی اسٹیبلشمنٹ بلکہ ایلون مسک اور سابق صدر ٹرمپ جیسے بااثر شخصیات کی مخالفت کے باوجود انتخاب جیتا۔ ممدانی کو نیویارک کے نوجوانوں، اقلیتوں اور ترقی پسند ووٹروں کی بھرپور حمایت حاصل رہی، جس نے انہیں ایک مضبوط عوامی رہنما کے طور پر ابھارا۔

