اسلام آباد: صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بھارت کا غیر قانونی قبضہ آج بھی اہلِ کشمیر کے بنیادی حقوق سلب کر رہا ہے اور عالمی برادری کو کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم پر خاموش تماشائی نہیں بننا چاہیے۔
یومِ شہدائے جموں کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ 6 نومبر 1947 کا سانحہ برصغیر کی تاریخ کا ایک المناک باب ہے، جب ڈوگرہ فوج، آر ایس ایس اور مسلح ہندو جتھوں نے جموں میں 2 لاکھ سے زائد بے گناہ مسلمانوں کو شہید کیا۔ انہوں نے بتایا کہ نصف ملین سے زیادہ مسلمان جموں کے اس قتلِ عام کے بعد اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور بے سروسامانی کے عالم میں پاکستان کی جانب ہجرت کی۔
صدر زرداری نے کہا کہ افسوس ناک امر یہ ہے کہ عالمی برادری نے کشمیری مسلمانوں کی اس نسل کشی کو وہ توجہ نہیں دی جس کی وہ مستحق تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام کی قربانیاں آج بھی جموں و کشمیر کی نامکمل داستان کی یاد دہانی ہیں۔ بھارت کا غیر قانونی قبضہ نہ صرف کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کو پامال کر رہا ہے بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بھی جاری ہیں۔
صدرِ مملکت نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 اور 35-اے کی منسوخی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ اقدام آبادیاتی تبدیلی کے ایک خطرناک منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد خطے کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارتی اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ جنیوا کنونشن کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں، اور عالمی برادری کو اس پر فوری نوٹس لینا چاہیے۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ جموں کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتا رہے گا۔ پاکستان کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنے حقِ خود ارادیت، انصاف، وقار اور آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، اور پاکستان اس جدوجہد میں ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے۔
صدرِ مملکت نے عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ کشمیری عوام کو ان کا جائز اور بنیادی حق — حقِ خود ارادیت — فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے قیام کی کلید ہے، اور بھارت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ظلم و جبر کے ذریعے آزادی کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔

