لاہور سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں فضائی معیار انتہائی مضر صحت قرار دے دیا گیا ہے۔
علی الصبح لاہور 439 اے کیو آئی انڈیکس کے ساتھ دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر رہا، جس کے باعث شہریوں کو سانس لینے میں دشواری، آنکھوں میں جلن، گلے کی تکلیف اور دیگر مسائل کا سامنا ہے۔ ماحولیاتی ماہرین کے مطابق لاہور میں بڑھتی ہوئی دھند اور اسموگ کی بنیادی وجہ ٹریفک کا دھواں، فیکٹریوں سے اٹھنے والا زہریلا دھواں اور کھیتوں میں فصلوں کی باقیات کو جلانے کا عمل ہے، جس کے نتیجے میں فضائی آلودگی خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے۔
پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ گوجرانوالہ میں پارٹیکولیٹ میٹرز کی مقدار 808 جبکہ فیصل آباد میں 507 ریکارڈ کی گئی، جو انسانی صحت کے لیے نہایت مضر سمجھی جاتی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایسی فضا میں بچوں اور بزرگوں کو خاص طور پر خطرات لاحق ہوتے ہیں اور سانس کی بیماریوں میں بڑی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ شہریوں کو بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلنے اور ماسک کا استعمال کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔
عالمی ماحولیاتی ویب سائٹ کے مطابق دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں بھارتی دارالحکومت نئی دہلی آج پہلے نمبر پر ہے جہاں اے کیو آئی انڈیکس 519 ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بھارت میں بھی فضائی آلودگی کے باعث نظامِ زندگی شدید متاثر ہو رہا ہے اور صحت کے مسائل میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

