روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر شدید ڈرون اور میزائل حملے کیے جن میں 8 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے مطابق روس نے ایک ہی روز میں 430 ڈرون اور 18 میزائل داغے، جن کا نشانہ اہم شہری علاقے، رہائشی عمارتیں اور توانائی فراہم کرنے والی تنصیبات تھیں۔ انہوں نے کہا کہ روس کا مقصد سرد موسم میں یوکرین کی بجلی اور گیس کی سپلائی کو تباہ کرکے عوام کو مشکلات میں دھکیلنا ہے۔ حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں اور کئی افراد ملبے تلے دب کر زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔
یوکرینی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے روس کے بہت سے ڈرونز اور میزائل مار گرائے، تاہم شدید تباہی کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہ ہو سکا۔ حکام کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے لگاتار حملوں کے سبب شہر میں بجلی کی فراہمی بے حد متاثر ہوئی ہے اور ریسکیو ٹیمیں مسلسل امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔
عرب میڈیا نے بتایا کہ کیف پر ہونے والی بمباری میں آذربائیجان کے سفارتخانے کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا جس کے بعد آذربائیجان نے ماسکو میں روسی سفیر کو طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ آذربائیجان نے روس سے مطالبہ کیا کہ سفارتی املاک کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے ورنہ یہ واقعہ دونوں ممالک کے تعلقات پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
ادھر ماسکو نے نیٹو ممالک کو ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ یوکرین جنگ میں براہِ راست مداخلت سے باز رہیں، کیونکہ ایسی صورت میں روس اور نیٹو کے درمیان بڑے پیمانے پر تصادم کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین کے خلاف جاری عسکری کارروائیاں اس کی قومی سلامتی کا حصہ ہیں اور کسی بھی بیرونی مداخلت کو سخت جواب دیا جائے گا۔

