سپریم کورٹ کے فل کورٹ اجلاس میں سپریم کورٹ رولز 2025 میں ترامیم کی منظوری دے دی گئی۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں ہونے والے اس اجلاس میں مجموعی طور پر 19 میں سے 17 ججوں نے شرکت کی، جب کہ جسٹس منیب اختر اور جسٹس عائشہ ملک اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ اجلاس کے دوران عدالتی اصلاحات اور عدالتی نظام کو مزید شفاف و مؤثر بنانے سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ ماہرین کے مطابق یہ ترامیم مقدمات کے فوری فیصلوں اور نظامِ انصاف میں بہتری کے لیے انتہائی اہم تصور کی جا رہی ہیں۔
اس سے قبل سپریم کورٹ کے ججوں کی مجموعی تعداد 24 تھی تاہم دو ججوں کے استعفے کے بعد یہ تعداد 22 رہ گئی۔ مزید یہ کہ تین ججوں کو آئینی عدالت میں منتقل کیے جانے سے سپریم کورٹ میں ججوں کی موجودہ تعداد 19 ہے، جس کے نتیجے میں عدالتی امور پر بوجھ بڑھ گیا تھا۔ اس تناظر میں ترامیم کے نفاذ سے کیس مینجمنٹ اور بینچوں کی تشکیل کے طریقہ کار کو بہتر بنانے کا مقصد رکھا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق سپریم کورٹ رولز 1980 کا جامع جائزہ مکمل کر لیا گیا اور ان میں نئی ترامیم شامل کی گئی ہیں جن کا اطلاق مستقبل میں عدالتی کارروائیوں پر نمایاں اثر ڈالے گا۔ ان ترامیم کی تیاری کے لیے جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سعادت، جسٹس نعیم افغان اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل کمیٹی نے مسودہ تیار کیا جو فل کورٹ نے منظور کر لیا۔
علاوہ ازیں سینئر وکیل منیر پراچہ کو سپریم کورٹ کا سینئر ایڈووکیٹ کا درجہ دینے کی منظوری بھی اجلاس میں دی گئی، جسے ملک کی قانونی برادری کی جانب سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے بار اور بینچ کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور عدالتی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔

