پاکستان نے ایک بار پھر افغانستان سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کے اندر سرگرم دہشت گرد گروہ افغان شہریوں پر مشتمل ہیں اور اس سلسلے میں افغان رجیم کو دہشت گردی کے تمام شواہد فراہم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغان سرزمین کا دہشت گردوں کے استعمال کو روکنا افغان حکومت کی ذمہ داری ہے۔
اندرابی نے کہا کہ پاکستان امید کرتا ہے کہ افغان طالبان کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف موثر کارروائی کریں گے۔ ان کے مطابق افغانستان میں دہشت گردوں کی موجودگی اور پناہ گاہیں انسانی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک واضح سیکورٹی خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان پشتون قومیت کو سیاسی فائدہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ خطے میں زیادہ پشتون آبادی پاکستان میں مقیم ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ افغانستان میں دہشت گردی کو جائز قرار دینے کے فتویٰ جاری کیے گئے ہیں اور پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ افغان طالبان کے اندر ایک لابی بیرونی مالی امداد لے کر پاکستان کے خلاف استعمال کرتی ہے۔
طاہر اندرابی نے ایران کی ثالثی کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس عمل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور روس کی جانب سے بھی کسی ثالثی کردار کو خوش آمدید کہا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ افغان سرحد پر جنگ بندی کی نگرانی پاکستان کی فورسز کر رہی ہیں، تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ جنگ بندی مکمل طور پر جاری ہے یا نہیں۔ افغان مہاجرین کی واپسی کے معاملات کو تین کیٹیگریز میں دیکھا جا رہا ہے اور کسی ٹائم لائن کا فی الحال علم نہیں۔

