پنجاب کے کئی بڑے شہر مسلسل شدید فضائی آلودگی کی لپیٹ میں ہیں اور اسموگ کی صورتحال دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے۔ موسمِ سرما کے آغاز کے ساتھ ہی فضاؤں میں مضر صحت ذرات کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جس کے باعث شہری مختلف مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
محکمہ ماحولیات پنجاب کی ویب سائٹ کے مطابق کچھ دیر پہلے لاہور میں ایئر کوالٹی انڈیکس 444 پارٹیکولیٹ میٹر ریکارڈ کیا گیا، جو انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ سطح ہے۔ لاہور گزشتہ کئی ہفتوں سے آلودہ ترین شہروں میں شامل رہا ہے، جہاں مضر ذرات کا معیار عالمی ادارہ صحت کی مقرر کردہ حد سے کئی گنا زیادہ ہے۔
اسی طرح فیصل آباد میں 344 جب کہ گوجرانوالہ میں 315 پارٹیکولیٹ میٹر ریکارڈ ہوا، جس سے ان شہروں میں بھی اسموگ کی شدت نمایاں طور پر بڑھنے کا پتا چلتا ہے۔ ان مقامات پر دھند اور اسموگ کے ملاپ نے حدِ نگاہ کم کردی ہے اور ٹریفک حادثات کے خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔
عالمی ماحولیاتی ویب سائٹ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق لاہور میں 220، گوجرانوالہ میں 495 اور فیصل آباد میں 435 پارٹیکولیٹ میٹر ریکارڈ کیا گیا۔ عالمی ویب سائٹس اور مقامی اعداد و شمار میں فرق کی وجہ مختلف اسٹیشنز، آلات اور پیمائش کے نظام ہیں، تاہم دونوں ہی رپورٹس خطرناک آلودگی کی نشاندہی کرتی ہیں۔
فضائی آلودگی کے باعث شہریوں میں گلے کی سوزش، کھانسی، آنکھوں کی جلن، سانس لینے میں دشواری اور دمہ جیسے امراض میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اسپتالوں میں اسموگ سے متاثرہ مریضوں کی تعداد بھی بڑھنے لگی ہے، خاص طور پر بچے اور بزرگ زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
ماہرین ماحولیات نے شہریوں کو سختی سے مشورہ دیا ہے کہ وہ باہر نکلتے وقت ماسک کا استعمال لازمی کریں، آنکھوں کی حفاظت کے لیے چشمے پہنیں، صبح اور شام کے اوقات میں سڑکوں پر نکلنے سے گریز کریں کیونکہ ان اوقات میں آلودگی کی شدت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق گھروں اور دفاتر میں ایئر پیوری فائر کا استعمال بھی فائدہ مند ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب حکومتی اداروں نے بھی فیکٹریوں کے دھوئیں، فصلوں کی باقیات جلانے اور ٹرانسپورٹ کے اخراج کو اسموگ کا اہم سبب قرار دیتے ہوئے کارروائیوں میں تیزی لانے کا اعلان کیا ہے۔ متعدد علاقوں میں ہزاروں دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو روکا گیا ہے جبکہ صنعتوں پر جرمانے بھی عائد کیے جارہے ہیں۔
محکمہ ماحولیات نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ فضائی آلودگی روکنے میں حکومت کا ساتھ دیں، غیر ضروری سفر محدود رکھیں، گاڑیوں کی باقاعدہ ٹیوننگ کروائیں اور کچرا جلانے سے گریز کریں تاکہ اسموگ کے بڑھتے خطرات کو کم کیا جاسکے۔

