کراچی: صوبائی وزیر داخلہ ضیا ءالحسن لنجار نے سندھ اسمبلی کو بتایا ہے کہ یہ بات درست ہے کہ کراچی میں ہیوی ٹریفک سے آئے دن حادثات ہو رہے ہیں اور اب تک 250 سے زائد افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی معاذ محبوب نے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کراچی میں ہیوی ٹریفک سے ہونے والے حادثات کی روک تھام کے لیے حکومت نے اب تک کیا عملی اقدامات کیے ہیں۔
اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ ضیا ءالحسن لنجار نے ایوان کو آگاہ کیا کہ حکومت اس سنگین مسئلے کا مکمل ادراک رکھتی ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ہیوی ٹریفک کے باعث شہریوں کی قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں اور اب تک 250 افراد حادثات کا شکار ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے سندھ اسمبلی کی ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے جو حادثات کی وجوہات اور تدارک کے لیے سفارشات مرتب کر رہی ہے۔
ضیا لنجار نے کہا کہ ٹریفک کے مسائل کا حل صرف حکومت کے بس کی بات نہیں بلکہ اس کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے کچھ سیاسی جماعتیں اس حساس مسئلے پر بھی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ میں مصروف ہیں، جو عوامی مفاد کے منافی ہے۔
صوبائی وزیر داخلہ نے ایوان کو بتایا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ٹریلر پر ایک لاکھ روپے تک کا چالان کیا جا رہا ہے، جبکہ بعض ٹریلرز کو ایک ہی دن میں تین تین بار چالان بھی کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق قانون شکنی پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جا رہی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کراچی میں 12 ہزار سے زائد ٹرکوں اور ڈمپروں پر ٹریکرز نصب کیے جا چکے ہیں تاکہ ان کی نگرانی کو مؤثر بنایا جا سکے۔ ضیا لنجار کا کہنا تھا کہ حادثات کی متعدد وجوہات ہیں، جن میں شہریوں کی لاپرواہی بھی شامل ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ موٹر سائیکل سوار بڑی تعداد میں ہیلمٹ کا استعمال نہیں کرتے اور آگاہی مہم کے باوجود لوگ ہیلمٹ پہننے کے لیے تیار نہیں، جس کی وجہ سے حادثات میں اموات کی شرح بڑھ رہی ہے۔

