آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے ساحل بونڈی بیچ پر ہونے والے خونریز حملے سے متعلق اہم انکشاف سامنے آیا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق فلپائن امیگریشن حکام نے تصدیق کی ہے کہ حملے میں ملوث ساجد اکرم نے بھارتی پاسپورٹ پر فلپائن کا سفر کیا تھا، جبکہ اس کا بیٹا 24 سالہ نوید اکرم آسٹریلوی شہری کی حیثیت سے فلپائن گیا۔
رپورٹ کے مطابق ساجد اکرم اور نوید اکرم یکم نومبر کو سڈنی سے فلپائن پہنچے، جہاں ان کی آخری منزل جنوبی صوبہ ڈاواؤ درج کی گئی تھی۔ دونوں افراد 28 نومبر کو فلپائن سے روانہ ہوئے۔ آسٹریلوی حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ حملہ آوروں نے فلپائن کا سفر کس مقصد کے لیے کیا تھا۔
آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حملہ آور داعش کے نظریات سے متاثر تھے اور دنیا اس وقت داعش کی انتہاپسندی اور نفرت انگیز نظریات کا سامنا کر رہی ہے۔
ادھر نیو ساؤتھ ویلز کے پولیس کمشنر کے مطابق حملہ آوروں کی گاڑی سے دیسی ساختہ بم اور داعش کے دو جھنڈے برآمد ہوئے ہیں، جس سے واقعے کی سنگینی مزید واضح ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ دو روز قبل سڈنی کے ساحل بونڈی بیچ پر دو مسلح افراد نے شہریوں پر اندھا دھند فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہو گئے تھے۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور مارا گیا جبکہ دوسرے کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔
واقعے کے بعد بھارت اور اسرائیل کی جانب سے پاکستان کو اس حملے سے جوڑنے کی کوشش کی گئی، تاہم یہ گمراہ کن پروپیگنڈا بری طرح ناکام ہو گیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نوید اکرم کے ساتھ کام کرنے والے ایک شخص نے بتایا کہ نوید کے والد ساجد اکرم کا تعلق بھارت سے ہے جبکہ اس کی والدہ کا تعلق اٹلی سے بتایا گیا ہے۔

