امریکی صدر ٹرمپ کی ایران مظاہرین کے تحفظ کی دھمکی، ایرانی حکام کا ردعمل
واشنگٹن/تہران: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں مظاہرین کے تحفظ کے حوالے سے سخت بیان جاری کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے پُرامن مظاہرین پر تشدد کیا یا انہیں قتل کیا تو امریکا ان کے بچاؤ کے لیے کارروائی کرے گا۔ انہوں نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ "سوشل ٹروتھ” پر کہا کہ امریکا مظاہرین کو بچانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کسی بھی اقدام سے دریغ نہیں کرے گا۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر علی لاریجانی نے امریکی صدر کے بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران کے داخلی احتجاجی معاملے میں امریکی مداخلت خطے میں افراتفری پھیلانے کے مترادف ہے۔ علی لاریجانی نے کہا کہ یہ بات ٹرمپ کو معلوم ہونی چاہیے کہ ایسی مداخلت خطے میں استحکام کے لیے خطرہ ہے اور یہ ایران کی خودمختاری میں مداخلت کے مترادف ہے۔
ایران میں گزشتہ کئی روز سے مہنگائی، روزمرہ ضروریات کی بلند قیمتوں اور کرنسی کی قدر گرنے کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔ اقتصادی بحران نے عوام کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے اور شہری حکومت کے اقدامات کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ تازہ جھڑپوں میں ایرانی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر قابو پانے کے لیے طاقت استعمال کی، جس کے نتیجے میں 6 مظاہرین ہلاک اور 30 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے پورے ملک میں پھیل چکے ہیں اور کئی شہروں میں دکانیں بند ہیں جبکہ بعض علاقوں میں نقل و حرکت محدود ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکا کی جانب سے ٹرمپ کا بیان ایران کے موجودہ بحران میں کشیدگی بڑھا سکتا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ اس تناظر میں عالمی برادری کی توجہ ایران کے مظاہروں اور انسانی حقوق کے تحفظ پر مرکوز ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے ایران میں مظاہرین پر تشدد کی اطلاعات پر تشویش ظاہر کی ہے اور تمام فریقین سے پرامن اور قانونی طریقے سے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یورپی یونین اور برطانیہ نے بھی مظاہرین کے تحفظ اور انسانی حقوق کے احترام کی ضرورت پر زور دیا ہے، جبکہ امریکا نے واضح کیا ہے کہ وہ مظاہرین کے حقوق کے تحفظ کے لیے مداخلت کرنے پر غور کر رہا ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران میں جاری مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی نے عوام کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ شہری روزمرہ ضروریات، خوراک اور ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مظاہروں پر مجبور ہیں۔ یہ مظاہرے سیاسی اور اقتصادی دباؤ کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور حکومت پر داخلی اصلاحات کے لیے دباؤ ڈال سکتے ہیں۔
عالمی سطح پر ایران کے احتجاجی بحران اور امریکا کے بیانات نے خطے میں دیگر ممالک کی بھی توجہ مبذول کرائی ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ترکی نے ایران میں پرامن مظاہرین کے تحفظ پر زور دیا ہے اور صورتحال کو مستحکم رکھنے کے لیے فریقین سے بات چیت کی اپیل کی ہے۔
ایران میں احتجاجی مظاہروں اور امریکا کی دھمکی کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ متوقع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کی مداخلت ایران میں حالات کو مزید بگڑنے کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ ایران کے داخلی دباؤ اور اقتصادی بحران کے حل کے لیے بین الاقوامی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
ایرانی حکومت نے بھی اپنی پوزیشن واضح کی ہے کہ امریکا کی دھمکی کو مسترد کیا جاتا ہے اور ملکی خودمختاری کو خطرہ پہنچانے والی کسی بھی مداخلت کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ حکومت نے شہریوں کو تسلی دی ہے کہ مسائل حل کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں، تاہم مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کی کارروائی جاری رہے گی۔
یہ بحران ایران اور امریکا کے تعلقات میں ایک نیا کشیدہ باب کھول سکتا ہے اور خطے میں سیاسی اور اقتصادی استحکام کے لیے چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے مظاہروں اور امریکا کی دھمکی کے بعد خطے میں خطرات بڑھ سکتے ہیں، اور بین الاقوامی برادری کے لیے صورتحال کو مستحکم کرنے کے لیے حکمت عملی تیار کرنا ضروری ہو گیا ہے۔

