اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کام کرنے والی متعدد بین الاقوامی این جی اوز کی سرگرمیاں معطل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں اور اب اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں سرگرم بین الاقوامی فلاحی تنظیموں کی سرگرمیاں معطل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، جس سے انسانی امداد کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
اسرائیلی فیصلے پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے انسانی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یہ فیصلہ واپس لے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی سرگرمیوں کو جاری رہنے دے۔
واضح رہے کہ غزہ میں اس وقت شدید سردی کا راج ہے، جبکہ بنیادی سہولیات کی شدید کمی اور اسرائیلی پابندیوں کے باعث امدادی سامان کی ترسیل بھی متاثر ہو چکی ہے۔ ان حالات میں این جی اوز کی سرگرمیوں کی معطلی سے فلسطینی عوام کو درپیش مشکلات میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ غزہ اور دیگر مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں پہلے ہی انسانی صورتحال نہایت تشویشناک ہے، ایسے میں امدادی اداروں پر پابندیاں لاکھوں متاثرہ افراد کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔

