وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ مذاکرات کی راہ میں اصل رکاوٹ خود بانی پی ٹی آئی عمران خان ہیں اور جب تک ان کی جانب سے واضح پالیسی سامنے نہیں آتی، اس وقت تک مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ایسا ممکن نہیں کہ وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکرات کی پیشکش کرنے سے پہلے سابق وزیراعظم نواز شریف یا اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں نہ لیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی پیشکش سنجیدہ اور بغیر کسی شرط کے ہے، مگر دوسری جانب ابہام اور غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی دوسرے یا تیسرے درجے کی قیادت یہ کہتی نظر آتی ہے کہ وہ ڈائیلاگ چاہتے ہیں، مگر اصل فیصلہ بانی پی ٹی آئی کے ہاتھ میں ہے۔ جب تک بانی پی ٹی آئی خود مذاکرات کے حق میں واضح مؤقف اختیار نہیں کریں گے، اس وقت تک جتنی بھی ملاقاتیں ہوتی رہیں، کوئی نتیجہ سامنے نہیں آ سکتا۔ رانا ثنا اللہ کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کا اختیار کسی کو نہیں دیا اور علیمہ خان کا بیان بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ جو مذاکرات کرے گا وہ ان میں سے نہیں ہوگا۔
مشیر سیاسی امور نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے پہیہ جام ہڑتال کا پیغام دیا جا رہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مذاکرات کے راستے میں خود بانی پی ٹی آئی رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی 2011 سے لے کر آج تک مذاکرات میں رکاوٹ بنتے آئے ہیں اور وہ درحقیقت مذاکرات نہیں بلکہ تصادم چاہتے ہیں۔ حکومت مذاکرات کے لیے بالکل واضح ہے، جبکہ دوسری جانب غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مذاکرات کے لیے فلاں شخص کو اجازت دے دی گئی ہے، حالانکہ اصل فیصلہ تو بانی پی ٹی آئی کو خود کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی مذاکرات کے حق میں نہیں ہیں تو صاف اور سیدھی بات کریں اور تشدد یا احتجاج کی سیاست کو ترجیح دینے کا اعتراف کریں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بانی پی ٹی آئی کی پچھلی ملاقاتوں سے کوئی مثبت نتیجہ سامنے آیا ہے؟ اگر پی ٹی آئی واقعی مذاکرات چاہتی ہے تو کیوں نہیں کہتی کہ وزیراعظم کی پیشکش موصول ہو چکی ہے اور وہ کس وقت ملاقات کے لیے حاضر ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اگر وہ وزیراعظم ہاؤس نہیں آنا چاہتے تو اسپیکر چیمبر میں آ جائیں، وزیراعظم خود وہاں پہنچ جائیں گے۔ وزیراعظم نے مذاکرات کے لیے کوئی شرط نہیں رکھی۔ اگر یہ وزیراعظم سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں تو آ کر ملاقات کریں، اور اگر اجازت کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے تو وزیراعظم سے ملاقات میں یہی بات کر لیں۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے بجٹ کی منظوری کے وقت بھی مذاکرات کی پیشکش کی تھی، اس وقت بھی یہی کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائی جائے۔ اس سے پہلے بھی پی ٹی آئی کی جانب سے کہا گیا کہ وہ بغیر اجازت مذاکرات میں نہیں بیٹھ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی رہنما اسپیکر آفس میں جا کر بات کریں تو ان کی وزیراعظم سے ملاقات کا انتظام ہو سکتا ہے، جہاں دونوں فریق اپنا اپنا مؤقف پیش کریں گے اور اسی طرح بات آگے بڑھے گی۔
مشیر سیاسی امور نے کہا کہ ان کے خیال میں اب قومی اسمبلی کے اجلاس میں اسپیکر اور اپوزیشن لیڈر اس معاملے کا فیصلہ کر لیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ درخواست کا فیصلہ ہو چکا ہے اور اپوزیشن فیصلے کی کاپی اسپیکر آفس میں جمع کرا چکی ہے۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی والے وزیراعظم سے مذاکرات کریں اور پھر بیٹھ کر جو چاہیں بات کریں، حکومت نے کسی کو مائنس نہیں کیا بلکہ ماضی میں ہمیں مائنس کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

