امریکا کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے وینزویلا میں ہونے والے امریکی فوجی آپریشن کی تفصیلات سے آگاہ کر دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر جنگ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی ملٹری چیف جنرل ڈین کین نے بتایا کہ صدر ٹرمپ کے براہِ راست حکم پر وینزویلا میں فوجی آپریشن کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے انجام دی گئی۔
جنرل ڈین کین نے کہا کہ اس آپریشن کی تیاری کئی ماہ پر محیط تھی اور اسے دہائیوں کے فوجی تجربے کی بنیاد پر ترتیب دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ امریکا کی زمینی، فضائی اور بحری افواج نے مشترکہ طور پر اس کارروائی میں حصہ لیا اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ قریبی تعاون کیا گیا۔ ان کے مطابق سی آئی اے، این ایس اے اور این جی اے سمیت دیگر امریکی انٹیلی جنس اداروں کے بغیر یہ مشن کامیابی سے مکمل نہیں ہو سکتا تھا۔
اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بیان دیتے ہوئے کہا کہ وینزویلا میں اقتدار کی منتقلی تک امریکا وہاں اپنا کردار ادا کرے گا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہماری تیل کی کمپنیاں وینزویلا جائیں گی اور وہاں کام کریں گی، کیونکہ وینزویلا میں استحکام امریکا کے مفاد میں ہے۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے بتایا کہ اس آپریشن میں 150 سے زائد طیاروں نے حصہ لیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی جوائنٹ فورسز کے لیے ناکامی کوئی آپشن نہیں تھی۔ فوجی نقصان کم سے کم رکھنے کے لیے مناسب وقت کا انتخاب کیا گیا اور صدر ٹرمپ نے گزشتہ رات اس مشن کو عملی جامہ پہنانے کا حکم دیا۔
جنرل ڈین کین کے مطابق امریکا نے 20 مختلف بری اور بحری اڈوں سے طیارے روانہ کیے۔ فضاء میں 150 سے زائد بمبار اور فائٹر طیارے موجود تھے جن میں ایف 22، ایف 35، ایف 18، ای اے 18، ای 2، بی ون بمبار اور دیگر سپورٹ طیارے شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مکمل اور ہمہ جہت فضائی کارروائی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی امریکی فورسز کاراکاس کے قریب پہنچیں، امریکی فضائیہ نے سب سے پہلے وینزویلا کے ائیر ڈیفنس سسٹم کو ناکارہ بنانا شروع کیا۔ اس اقدام کا مقصد ہیلی کاپٹروں کے لیے محفوظ راستہ بنانا تھا تاکہ وہ مطلوبہ ہدف تک باآسانی پہنچ سکیں۔ جنرل ڈین کین نے بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق رات 2 بجے امریکی فورسز مادورو کے کمپاؤنڈ تک پہنچیں اور زمینی دستے اندر داخل ہو گئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ٹارگٹ ایریا میں پہنچنے پر امریکی ہیلی کاپٹروں پر فائرنگ کی گئی۔ اس دوران ایک امریکی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بھی بنایا گیا تاہم وہ پرواز کے قابل رہا۔ ان کے مطابق آپریشن مکمل ہونے کے بعد امریکی افواج کے تمام طیارے اور اہلکار بحفاظت واپس پہنچ گئے۔
امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کا کہنا تھا کہ آپریشن کے بعد امریکی وزارتِ انصاف نے نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لے لیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وینزویلا سے واپسی کے دوران امریکی فورسز کو متعدد سیلف ڈیفنس کارروائیاں بھی کرنا پڑیں تاکہ کسی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔
خیال رہے کہ امریکا نے وینزویلا پر براہِ راست حملہ کیا ہے اور اس کارروائی کے دوران وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی انتہائی منصوبہ بندی اور محدود وقت میں مکمل کی گئی۔
ذرائع کے مطابق یہ آپریشن امریکی جنگی طیاروں کی مدد سے کیا گیا جبکہ ڈیلٹا فورس کے کمانڈوز نے دارالحکومت کاراکاس میں اہم اہداف کو نشانہ بنایا۔ دوسری جانب وینزویلا کی حکومت نے ان حملوں کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل دیا ہے۔
وینزویلا کے حکام کا کہنا ہے کہ امریکی حملے کا اصل مقصد وینزویلا کے تیل اور معدنی وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔ وینزویلا نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکا کی اس کارروائی کا نوٹس لے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائی کرے۔

