وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے امریکی حملے اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وینزویلا کسی بھی ملک کی کالونی نہیں بنے گا اور ملک کے دفاع اور اپنے قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے تیار ہیں۔
ڈیلسی روڈریگز نے خطاب میں کہا کہ صدر نکولس مادورو ہی وینزویلا کے قانونی صدر ہیں اور امریکی کارروائی کے باوجود عوام کو صبر اور اتحاد کے ساتھ ملک کے دفاع میں حصہ لینا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی فوج کی حالیہ کارروائی کے بعد وینزویلا کے عوام اور فورسز ملک کے دفاع اور قدرتی وسائل کی حفاظت کے لیے مکمل تیار ہیں۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وینزویلا میں اقتدار کی منتقلی تک امریکا وہاں انتظامی کردار ادا کرے گا اور امریکی تیل کی کمپنیاں وینزویلا جائیں گی۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو نیویارک منتقل کیا جا رہا ہے اور ان پر منشیات اور دہشت گردی کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔
ٹرمپ نے اپنی پریس کانفرنس میں بتایا کہ امریکی فوج نے وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں ایک غیرمعمولی آپریشن کیا، جس میں امریکی فضائی، زمینی اور سمندری طاقت کا شاندار مظاہرہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ امریکی فوجی طاقت کا ایک غیرمعمولی اور کامیاب مظاہرہ تھا۔
ڈیلسی روڈریگز کے موقف سے واضح ہوتا ہے کہ وینزویلا کے حکام امریکی اقدامات کے خلاف سخت ردعمل کے لیے تیار ہیں اور ملک کی خودمختاری اور وسائل کے تحفظ پر کسی قسم کی رعایت نہیں کریں گے۔

