امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے درست رویہ اختیار نہ کرنے پر وینزویلا پر دوبارہ حملے کی دھمکی دیدی۔
ائیرفورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کو وینزویلا میں تیل اور دیگر قدرتی وسائل تک مکمل رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وینزویلا نے درست رویہ اختیار نہ کیا تو امریکا دوسرا حملہ بھی کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے وینزویلا میں اقتدار سنبھالنے والی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کو بھی سخت تنبیہ کی اور خطے کے دیگر ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ڈیلسی روڈریگز نے درست فیصلے نہ کیے تو انہیں نکولس مادورو سے بھی زیادہ بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
دوسری جانب دہشتگردی کے الزامات کے تحت وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو آج نیویارک کی عدالت میں پیش کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
امریکی صدر نے کیوبا کے حوالے سے بھی سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کیوبا کی حکومت جلد خود ہی گرنے والی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شاید کیوبا کے خلاف فوجی مداخلت کی ضرورت نہ پڑے کیونکہ کیوبا کی آمدنی کا بڑا ذریعہ وینزویلا تھا اور اب وہ مالی مدد بھی ختم ہو چکی ہے۔
صدر ٹرمپ نے کولمبیا پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہاں ایک بیمار شخص حکومت چلا رہا ہے جو کوکین بنانے اور اسے امریکا میں فروخت کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے، تاہم وہ زیادہ عرصے تک ایسا نہیں کر پائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ کولمبیا کی موجودہ حکومت کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے امکان کی بات سن کر انہیں اچھا لگا۔
اسی گفتگو کے دوران امریکی صدر نے میکسیکو کو بھی خبردار کیا اور کہا کہ اگر میکسیکو نے اپنا نظام درست نہ کیا تو امریکا کو کچھ نہ کچھ کرنا ہوگا۔ صدر ٹرمپ کے ان بیانات کے بعد لاطینی امریکا میں سیاسی اور سفارتی سطح پر بے چینی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

