امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے گرین لینڈ حاصل کرنے کے مختلف آپشنز پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے۔ اس حوالے سے وائٹ ہاؤس کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ گرین لینڈ کو حاصل کرنے کے لیے فوجی آپشن سمیت تمام ممکنہ پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس حکام کے مطابق صدر ٹرمپ اس معاملے کو امریکا کی قومی سلامتی سے براہِ راست جڑا ہوا سمجھتے ہیں اور وہ اس بات کو پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ گرین لینڈ کا حصول امریکا کی نیشنل سکیورٹی ترجیحات میں شامل ہے۔
ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ اپنے موجودہ دورِ حکومت میں گرین لینڈ حاصل کرنے کے خواہاں ہیں اور اسی مقصد کے تحت وہ اپنے مشیروں کے ساتھ مختلف سفارتی، سیاسی اور تزویراتی آپشنز پر مشاورت کر رہے ہیں۔
عہدیدار کے مطابق امریکی آپشنز میں ڈنمارک سے گرین لینڈ کو خریدنے کا امکان یا پھر جزیرے کے ساتھ آزادانہ وابستگی (فری ایسوسی ایشن) کا معاہدہ کرنے جیسے امکانات شامل ہیں۔ ان تمام آپشنز پر تفصیلی غور کیا جا رہا ہے تاکہ امریکا کے اسٹریٹجک مفادات کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گرین لینڈ کو حاصل کرنے کا معاملہ تاحال ختم نہیں ہوا اور اگرچہ نیٹو کے بعض رہنماؤں کی جانب سے اس منصوبے پر تحفظات اور اعتراضات سامنے آئے ہیں، اس کے باوجود صدر ٹرمپ گرین لینڈ کے حصول کے لیے بے چین دکھائی دیتے ہیں اور اس حوالے سے پیش رفت کے خواہاں ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق گرین لینڈ کی اسٹریٹجک جغرافیائی اہمیت، قدرتی وسائل اور آرکٹک خطے میں بڑھتی عالمی مسابقت کے باعث امریکا اس جزیرے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے، تاہم اس حوالے سے کسی بھی حتمی فیصلے کے اثرات عالمی سفارت کاری پر گہرے ہو سکتے ہیں۔

