امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر امریکا نیٹو اتحاد کا حصہ نہ ہوتا تو روس اور چین کو اس فوجی اتحاد کا کوئی خوف نہ ہوتا۔ ان کا کہنا ہے کہ نیٹو کی اصل طاقت امریکا ہے اور امریکا کے بغیر یہ اتحاد بے اثر ہو جاتا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے تازہ بیان میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا وہ واحد ملک ہے جس سے روس اور چین دونوں خوفزدہ بھی ہیں اور احترام بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے دور میں امریکا کو دوبارہ مضبوط اور بااثر بنایا گیا، جس کے باعث عالمی سطح پر امریکا کی ساکھ بحال ہوئی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پیغام میں ایک بار پھر 8 جنگیں ختم کروانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں سے لاکھوں انسانی جانیں بچیں۔ انہوں نے کہا کہ ناروے، جو نیٹو کا رکن ملک ہے، نے انہیں نوبیل امن انعام کے لیے نامزد نہیں کیا، تاہم اس بات سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ اصل کامیابی جنگوں کا خاتمہ اور انسانی جانوں کا تحفظ ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے اقتدار میں آنے سے قبل نیٹو کے بیشتر رکن ممالک اپنے دفاعی اخراجات کی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے تھے، جس کے باعث اتحاد کمزور ہو رہا تھا۔ ان کے مطابق انہوں نے نیٹو ممالک کو مجبور کیا کہ وہ اپنے دفاعی بجٹ کو مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے 5 فیصد تک بڑھائیں۔
ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ اب نیٹو ممالک فوری طور پر اپنی مالی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں، جو ان کی سخت پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکا نہ ہوتا تو نیٹو کے لیے اپنے اہداف حاصل کرنا ممکن نہیں تھا۔
امریکی صدر نے اس بات پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا کہ ضرورت پڑنے پر آیا نیٹو امریکا کے لیے کھڑا ہوگا یا نہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ ہمیشہ نیٹو کے لیے موجود رہیں گے، چاہے نیٹو امریکا کے لیے موجود ہو یا نہ ہو۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین جنگ کے حوالے سے بھی بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ مداخلت نہ کرتے تو اس وقت روس پورے یوکرین پر قبضہ کر چکا ہوتا۔ ان کے مطابق ان کی سفارتی اور سیاسی حکمت عملی نے خطے میں بڑے پیمانے پر تباہی کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔

