سائنسدانوں نے گرین لینڈ کی برفانی چادروں کے تیزی سے پگھلنے پر دنیا بھر کے ساحلی علاقوں کو سنگین نتائج سے خبردار کر دیا ہے۔ ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ گرین لینڈ کی آئس شیٹ کے بڑے حصے ماضی میں مکمل طور پر پگھل چکے ہیں اور موجودہ گلوبل وارمنگ کے تسلسل کے باعث یہ خطرناک عمل دوبارہ دہرایا جا سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق گرین لینڈ آئس شیٹ پر ایک بلند مقام پر گہری کھدائی کی گئی، جہاں سے حاصل ہونے والے نمونوں کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ گزشتہ 10 ہزار برسوں کے دوران وہاں موجود برف مکمل طور پر غائب ہو چکی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شواہد اس بات کی واضح علامت ہیں کہ اگر درجہ حرارت میں اضافہ جاری رہا تو مستقبل میں گرین لینڈ کی برف ایک بار پھر بڑے پیمانے پر پگھل سکتی ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق گلوبل وارمنگ میں انسانی سرگرمیوں کے علاوہ ایک اور پوشیدہ عنصر بھی شامل ہے، جس کی نشاندہی کینیڈا کی اوٹاوا یونیورسٹی کے محققین اور ان کے بین الاقوامی شراکت داروں نے کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ کے نیچے موجود زمین میں گہری ناہموار حرارت (Geothermal Heat) برف کے تیز رفتار پگھلاؤ کا ایک اہم سبب بن رہی ہے۔
تحقیق میں سیٹلائٹ ڈیٹا، سیسمک ریڈنگ، کششِ ثقل کی پیمائش اور جدید کمپیوٹر سمیلیشنز کی مدد سے تیار کیے گئے تھری ڈی درجہ حرارت کے ماڈلز استعمال کیے گئے۔ ان ماڈلز سے یہ انکشاف ہوا کہ برف کے نیچے موجود زمین کی بنیاد بعض مقامات پر غیر معمولی طور پر زیادہ گرم ہے، جس کے باعث ان علاقوں میں برف تیزی سے کمزور ہو رہی ہے۔
سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ برف کے تیزی سے پگھلنے کا براہِ راست مطلب سمندروں میں اضافی پانی کا جانا ہے، جو دنیا بھر میں سطح سمندر میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ اس صورتحال سے ساحلی شہر، نشیبی علاقے اور جزیرہ نما خطے شدید خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ مستقبل میں سمندروں کی سطح میں اضافہ پہلے لگائے گئے اندازوں سے کہیں زیادہ تیزی سے ہو سکتا ہے، جس کے باعث ماحولیاتی، معاشی اور انسانی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ سائنسدانوں نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

