ایشیز سیریز میں آسٹریلیا سے 4-1 کی شکست پر انگلینڈ کے سابق کپتان جیفری بائیکاٹ نے اپنی ٹیم اور انتظامیہ پر سخت تنقید کی ہے۔ بائیکاٹ نے کہا کہ انگلینڈ کی ٹیم اس وقت تک تبدیل نہیں ہوگی جب تک موجودہ مغرور رجیم ختم نہیں ہوتا۔
انہوں نے برینڈن میکلم، راب کی اور بین اسٹوکس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان تینوں نے گزشتہ تین برسوں میں جھوٹ بولا اور انگلینڈ کرکٹ کے شائقین کو مایوس کیا۔ بائیکاٹ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ برینڈن میکلم اور راب کی ہمیشہ دعویٰ کرتے رہے کہ وہ ایشیز کی تیاری کر رہے ہیں، لیکن عملی طور پر ٹیم کی کارکردگی مایوس کن رہی۔
سابق کپتان نے مزید کہا کہ اس سیریز میں غلطیوں پر غلطیاں کی گئیں اور ٹیم کی ہار 4-1 سے پوری طرح مستحق تھی۔ انہوں نے برینڈن میکلم کی فلسفے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں کو کہا جاتا ہے کہ "جاؤ اور خود کا اظہار کرو، آؤٹ ہو جاؤ، کوئی پرابلم نہیں”، جس سے کھلاڑیوں کو احتساب یا رہنمائی حاصل نہیں ہوئی۔
جیفری بائیکاٹ نے کہا کہ انگلینڈ کے پاس باصلاحیت کرکٹرز موجود ہیں، لیکن ان کی مہارت کو نکھارا نہیں گیا۔ تین عقل مند افراد سمجھتے رہے کہ وہ بہتر جانتے ہیں، لیکن انہوں نے کبھی آسٹریلیا میں سیریز نہیں جیتی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سابق کرکٹرز کو ماضی کا حصہ قرار دے کر موجودہ کپتان نے نہ صرف خود کو شرمندہ کیا بلکہ سابق کھلاڑیوں کی بے عزتی بھی کی، کیونکہ یہ انتظامیہ اپنی نوکری نہیں کھونا چاہتی اور انہیں بھاری معاوضہ ملتا ہے۔
بائیکاٹ کا یہ موقف انگلش کرکٹ میں انتظامی اور کھیل کے حوالے سے جاری تنازعے پر شائقین اور ماہرین کے درمیان نئی بحث کا باعث بن سکتا ہے۔

