امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ، چین ان کے دورِ صدارت میں تائیوان پر فوجی کارروائی نہیں کرے گا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے دورِ صدارت میں چین کے صدر شی جن پنگ تائیوان پر فوجی کارروائی نہیں کریں گے۔
نیو یارک ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگرچہ تائیوان کے معاملے پر چین کے اپنے خیالات ہیں اور چینی صدر شی جن پنگ تائیوان کو چین کا حصہ سمجھتے ہیں، تاہم وہ نہیں سمجھتے کہ شی جن پنگ ان کے دورِ صدارت میں تائیوان کے خلاف فوجی کارروائی کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ چین تائیوان کے بارے میں کیا قدم اٹھاتا ہے، یہ مکمل طور پر چینی صدر کے فیصلے پر منحصر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تائیوان پر چین کی جانب سے کسی بھی فوجی اقدام پر وہ خوش نہیں ہوں گے، تاہم انہیں امید ہے کہ چین تائیوان کے خلاف کارروائی سے گریز کرے گا۔
دوسری جانب امریکا اور روس کے درمیان جوہری معاہدے سے متعلق بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر امریکا اور روس کے درمیان نیو اسٹارٹ جوہری معاہدہ ختم ہو جاتا ہے تو ہونے دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں کسی بھی نئے جوہری معاہدے میں چین کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ امریکا اور روس کے درمیان نیو اسٹارٹ جوہری معاہدہ 5 فروری کو ختم ہو رہا ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول سے متعلق خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

