سائنسدانوں نے ایک حیرت انگیز پیش رفت کرتے ہوئے پہلی بار پودوں کے سانس لینے کے عمل کو رئیل ٹائم میں کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر لیا ہے۔
سائنسدان کافی عرصے سے جانتے تھے کہ پودے اپنے پتوں میں موجود ننھے مساموں، جنہیں stomata کہا جاتا ہے، کے ذریعے ہوا کو اندر کھینچتے ہیں۔ انہی مساموں کے ذریعے کاربن ڈائی آکسائیڈ پتے کے اندر داخل ہوتی ہے جبکہ پانی کے بخارات فضا میں خارج ہوتے ہیں۔
یہ عمل نہایت باریک اور پیچیدہ ہونے کے باعث اب تک براہ راست مشاہدے میں نہیں آ سکا تھا۔ تاہم امریکا کی الینواس یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک جدید اور طاقتور نظام تیار کیا ہے جس کی مدد سے یہ ممکن ہو گیا ہے۔
سائنسدانوں نے “stomata in situ” نامی ایک جدید ٹول کے ذریعے پتوں کی حرکت کا مشاہدہ کیا اور یہ بھی جانچا کہ پودے کتنی مقدار میں گیس فضا میں خارج یا جذب کر رہے ہیں۔ اس تحقیق کے ذریعے سائنسدان پہلی بار پودوں کو رئیل ٹائم میں سانس لیتے دیکھنے میں کامیاب ہوئے۔
stomata یونانی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب “منہ” ہے اور یہ دنیا بھر میں زراعت کے لیے نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جب یہ مسام کھلتے ہیں تو پودے نشوونما کے لیے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں، تاہم اس دوران پانی بھی ضائع ہوتا ہے۔
اسی وجہ سے اس عمل کو سمجھنا فصلوں کی بہتر پیداوار کے لیے نہایت ضروری سمجھا جاتا ہے تاکہ کم پانی استعمال کرنے والی فصلیں اگائی جا سکیں۔
اس نئے نظام میں تین جدید ٹیکنالوجیز کو یکجا کیا گیا ہے جن میں لائیو کون فوکل مائیکرو اسکوپی، لیف گیس ایکسچینج اور ماحولیاتی کنٹرول شامل ہیں۔ ان ٹیکنالوجیز کے امتزاج سے سائنسدان براہ راست پودوں کے سانس لینے کے عمل کا مشاہدہ کرنے کے قابل ہوئے۔
سائنسدانوں کے مطابق پودوں کے ان افعال کو بہتر طور پر سمجھنے سے زرعی نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے اور مستقبل میں ایسے پودے تیار کرنے میں مدد ملے گی جنہیں کم پانی کی ضرورت ہو۔
اس تحقیق کے نتائج سائنسی جریدے “پلانٹ فزیولوجی” میں شائع کیے گئے ہیں۔

