امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کے معاملے پر روس اور چین کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اس خطے پر کسی بھی ملک کو قبضے کی اجازت نہیں دے گا۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت گرین لینڈ سے متعلق مختلف پہلوؤں پر غور جاری ہے، تاہم فی الحال اس کے مالی معاملات یا کسی رقم پر بات نہیں ہو رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ کے مالی فیصلے بعد میں کیے جائیں گے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ڈنمارک کے ساتھ ڈیل کرنا چاہیں گے، کیونکہ اگر امریکا نے گرین لینڈ نہ لیا تو اس کا اگلا پڑوسی روس یا چین ہو سکتا ہے، اور امریکا ان دونوں ممالک کو اپنا پڑوسی نہیں بنا سکتا۔ ان کے مطابق امریکا کو گرین لینڈ کا مالک ہونا چاہیے تاکہ روس یا چین وہاں قبضہ نہ کر سکیں۔
وینزویلا سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ امریکا اور وینزویلا کے پاس دنیا کے 55 فیصد تیل کے ذخائر موجود ہیں، جبکہ روس اور چین وہ تمام تیل خرید سکتے ہیں جو وہ امریکا یا وینزویلا سے لینا چاہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ روسی صدر اچھے انسان ہیں لیکن انہوں نے انہیں مایوس کیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا وینزویلا میں 100 ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری پر غور کر رہا ہے اور وینزویلا کی تیل صنعت کو دوبارہ کیسے تعمیر کیا جائے، اس پر بات چیت کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ وینزویلا کی جانب سے گزشتہ روز امریکا کو 30 ملین بیرل تیل فراہم کیا گیا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ وینزویلا میں کون سی تیل کمپنیاں جائیں گی، اس کا فیصلہ امریکا کرے گا، اور تیل کمپنیاں وینزویلا کے بجائے براہ راست امریکا سے ڈیل کریں گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ فوری طور پر وینزویلا کے 5 کروڑ بیرل تیل کی ریفائننگ اور فروخت کا عمل شروع کیا جائے گا، جبکہ وینزویلا میں سرمایہ کاری کرنے والی تیل کمپنیوں کو حفاظتی ضمانتیں بھی دی جائیں گی۔
پاک بھارت کشیدگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت سمیت 8 جنگیں رکوائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی وزیراعظم نے بھی اعتراف کیا کہ جنگ رکوانے سے لاکھوں جانیں بچائی گئیں۔ صدر ٹرمپ نے اس موقع پر پاک بھارت کشیدگی کے دوران 8 طیارے گرنے کا ذکر بھی کیا۔
ایران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ اگر ایران میں لوگوں کو قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی صورتحال پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے، تاہم واضح کیا کہ مداخلت کا مطلب ایران میں فوج اتارنا نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی امریکی صدر نے متنبہ کیا تھا کہ اگر ایران میں احتجاج کے دوران مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکا بھرپور اور سخت جواب دے گا۔

