آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بنگلادیش کرکٹ ٹیم کے بھارت میں ہونے والے میچز غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) آئی سی سی کی جانب سے بھیجی گئی ای میل کے جواب کا انتظار کر رہا ہے، لیکن اس سے قبل بھارتی میڈیا نے پروپیگنڈا شروع کر دیا ہے۔
بھارتی کرکٹ ویب سائٹس کا دعویٰ ہے کہ بنگلادیش کے میچز بھارت سے سری لنکا منتقل کرنے کے امکانات کم ہیں، تاہم وینیوز کی تبدیلی کا آپشن زیر غور ہے۔ ویب سائٹس کے مطابق آئی سی سی اور بی سی بی کے درمیان مؤقف پر اختلاف جاری ہے، لیکن بنگلادیش کے میچز کے لیے چنئی اور تھیرو وننتھاپورم کے وینیوز ممکنہ طور پر دستیاب ہو سکتے ہیں۔
بی سی بی نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر آئی سی سی سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے تمام میچز سری لنکا منتقل کیے جائیں، مگر بھارتی ویب سائٹس کے مطابق آئی سی سی نے متبادل وینیوز تلاش کیے ہیں، اور میچز سری لنکا منتقل ہونے کا امکان کم ہے کیونکہ تامل ناڈو اور کیرالا کرکٹ ایسوسی ایشن سے رابطہ کیا گیا ہے۔
چنئی اور تھیرو وننتھاپورم کو ممکنہ وینیوز کے طور پر تجویز کیا گیا ہے، جبکہ تامل ناڈو کرکٹ ایسوسی ایشن پہلے ہی ورلڈکپ کے لیے میچز کی میزبانی کر رہی ہے اور انہیں مزید میچز پر اعتراض نہیں ہے۔
بنگلادیش کے میچز کا شیڈول کچھ یوں ہے: 7، 9 اور 14 فروری کو کولکتہ جبکہ 17 فروری کو ممبئی میں میچز ہونا تھے۔
واضح رہے کہ ہندو انتہا پسندوں کے دباؤ کے بعد بنگلادیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو بھارتی بورڈ نے آئی پی ایل سے ریلیز کرنے کا حکم دیا تھا، اور دھمکیوں کے بعد بی سی بی نے ٹیم کو بھارت نہ بھیجنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بنگلادیش کے بھارت نہ جانے کے معاملے پر دلچسپی ظاہر کی ہے۔ پی سی بی ذرائع کے مطابق اگر سری لنکا کے وینیوز دستیاب نہ ہوں تو پاکستان کے وینیوز میچز کی میزبانی کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی اور آئی سی سی ویمن کوالیفائر پاکستان میں کامیابی سے کرائے جا چکے ہیں، اس لیے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے میچز بھی آسانی سے منعقد کیے جا سکتے ہیں۔

