پاکستان پیپلزپارٹی نے صدر مملکت آصف زرداری کے دستخط کے بغیر اسپیشل اکنامک زونز آرڈیننس جاری کرنے پر قومی اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پیپلزپارٹی کے ارکان ایوان سے باہر چلے گئے۔ اس موقع پر پی پی رہنما نوید قمر نے کہا کہ اس ایوان کی بنیادی ذمہ داری قانون سازی ہے، لیکن یہ پہلی بار ہوا ہے کہ حکومت نے ایسا آرڈیننس نافذ کیا گیا جس کی صدر مملکت نے منظوری نہیں دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے قانون کی کوئی آئینی حیثیت نہیں، اسی لیے ان حالات میں ہم اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی کے ارکان ان کی بات سن لیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ حکومت کے نوٹس میں ہے اور حکومت واضح کرتی ہے کہ جب تک صدر مملکت توثیق نہیں کریں گے، اس آرڈیننس کو نوٹیفائی نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے صدر کے دستخط کے بغیر اسپیشل اکنامک زونز آرڈیننس جاری ہونے پر پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلزپارٹی آئینی عمل اور طریقہ کار سے متعلق تحفظات پر ارکان سے مشاورت کرے گی۔

