تہران/واشنگٹن: ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں اور امریکی صدر کی جانب سے مظاہرین کی حمایت میں مداخلت کی دھمکیوں کے باعث خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر ایران میں فوجی مداخلت کر سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق خطے میں تیزی سے بدلتی صورتحال کے پیشِ نظر امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں واقع اپنے فوجی اڈوں سے بعض اہلکاروں کا انخلا شروع کر دیا ہے، جسے ممکنہ امریکی حملے کی واضح پیشگی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ یہ اقدام احتیاطی تدبیر کے طور پر کیا گیا ہے، کیونکہ ایران پہلے ہی ہمسایہ ممالک کو خبردار کر چکا ہے کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ایک اور امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے باعث خطے کے اہم فوجی اڈوں سے محدود پیمانے پر عملہ واپس بلایا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں برطانیہ بھی قطر میں واقع ایک فضائی اڈے سے اپنے بعض اہلکار نکال رہا ہے۔
ایک مغربی فوجی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ ’’تمام اشارے اس بات کی طرف جا رہے ہیں کہ امریکی حملہ جلد ہو سکتا ہے‘‘۔
دو یورپی عہدیداروں نے بھی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ امریکی فوجی مداخلت آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر ممکن ہے۔ دوسری جانب ایک اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مداخلت کا فیصلہ کر چکے ہیں، تاہم اس مداخلت کے دائرہ کار اور حتمی وقت کے بارے میں تاحال کوئی واضح اعلان سامنے نہیں آیا۔
ادھر قطر نے بھی تصدیق کی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کے سب سے بڑے فوجی اڈے العدید ایئر بیس سے عملے میں کمی ’’موجودہ علاقائی کشیدگی‘‘ کے باعث کی جا رہی ہے۔

